شفافیت، جوابدہی اور عوامی اعتماد کے لیے معلومات کی بروقت فراہمی ضروری ہے، سیکریٹری اطلاعات عمران خان؛ شرکاء میں اسناد تقسیم
کوئٹہ (الفجر آن لائن): بلوچستان رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2021 کے تحت پبلک انفارمیشن آفیسرز کی تربیتی ورکشاپ منعقد ہوئی، جس میں سرکاری اداروں میں شفافیت، جوابدہی اور معلومات تک شہریوں کی رسائی مؤثر بنانے پر زور دیا گیا۔
ورکشاپ کا اہتمام ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے بلوچستان انفارمیشن کمیشن کے اشتراک سے کیا۔ اس کا مرکزی موضوع بلوچستان رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2021 کے سیکشن 5 کے تحت ازخود معلومات کی تشہیر (Proactive Disclosure) تھا۔
صوبائی سیکریٹری اطلاعات حکومتِ بلوچستان عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معلومات تک رسائی کا حق شفاف طرزِ حکمرانی، جوابدہی اور عوامی اعتماد کے فروغ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ سرکاری اداروں کی جانب سے درست، مستند اور بروقت معلومات کی فراہمی سے شہری حکومتی امور سے باخبر رہتے ہیں اور ادارہ جاتی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔
انہوں نے پبلک انفارمیشن آفیسرز پر زور دیا کہ وہ قانونی تقاضوں پر عمل درآمد اور شہریوں کو معلومات کی مؤثر فراہمی یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے چیئرمین جسٹس (ر) ضیاء پرویز نے استقبالیہ کلمات میں معلومات تک رسائی کو اچھی حکمرانی اور ادارہ جاتی شفافیت کے لیے اہم قرار دیا۔
بلوچستان انفارمیشن کمیشن کے انفارمیشن کمشنر عبدالشکور خان نے ایکٹ کے اہم پہلوؤں، بالخصوص سیکشن 5 کے تحت ازخود معلومات کی تشہیر پر تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس طریقہ کار کے تحت ضروری سرکاری معلومات پیشگی عوام کے لیے دستیاب کی جاتی ہیں تاکہ شہریوں کو ہر معلومات کے حصول کے لیے الگ درخواست نہ دینا پڑے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کاشف علی نے قانون پر مؤثر عمل درآمد، متعلقہ افسران کی استعدادِ کار میں اضافے اور سرکاری اداروں میں شفافیت کے اصول اپنانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
آر ٹی آئی ماہر، سابق رکن بلوچستان نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق اور سابق ڈائریکٹر جنرل وزارتِ انسانی حقوق اسلام آباد پروفیسر فرخندہ اورنگزیب نے پاکستان، بالخصوص بلوچستان میں معلومات تک رسائی کے قانونی نظام، اس کے عملی اطلاق اور پبلک انفارمیشن آفیسرز کی ذمہ داریوں پر گفتگو کی۔
ورکشاپ کے اختتام پر مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ معلومات کی بروقت فراہمی، قانونی تقاضوں پر عمل درآمد اور اداروں کے درمیان تعاون سے شفافیت اور جوابدہی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ تقریب کے آخر میں شرکاء میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔

