حکومت کا نیا قیمتوں کے تعین کا فارمولا مسترد، ایل پی جی کی قیمتوں میں 25 سے 30 فیصد اضافے کا خدشہ؛ نومبر کے لیے فی کلو قیمت 294 روپے مقرر
کراچی (الفجر آن لائن) مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) ایسوسی ایشنز نے حکومت کی جانب سے قیمتوں کے تعین کے نئے فارمولے کو مسترد کرتے ہوئے 16 نومبر سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت ملک بھر میں ایل پی جی کی فروخت بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ایل پی جی مارکیٹس ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین علی حیدر نے کہا ہے کہ حکومت کے نئے پرائسنگ فارمولے کے خلاف تمام ایسوسی ایشنز کے ہنگامی اجلاس میں ہڑتال کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے فارمولے کے نفاذ سے ایل پی جی کی قیمتوں میں 25 سے 30 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
علی حیدر کے مطابق ایسوسی ایشنز نے حکومتی فارمولے کو مسترد کرتے ہوئے 16 نومبر سے ایل پی جی کی فروخت مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب اوگرا نے نومبر کے لیے ایل پی جی کی قیمت میں 14 روپے 73 پیسے فی کلوگرام اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کا اطلاق یکم نومبر سے ہو چکا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کی نئی سرکاری قیمت 294 روپے فی کلوگرام مقرر کی گئی ہے۔
قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں 11.8 کلوگرام کے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 173 روپے 86 پیسے اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 3 ہزار 470 روپے 9 پیسے مقرر کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق مارکیٹ میں ایل پی جی اوگرا کی مقرر کردہ قیمت سے تقریباً دگنی قیمت پر فروخت کی جا رہی ہے، جس سے صارفین کو اضافی مالی بوجھ کا سامنا ہے۔
ایل پی جی ایسوسی ایشنز کی جانب سے 16 نومبر سے فروخت بند کرنے کے اعلان کے بعد ملک بھر میں گیس کی دستیابی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ ہڑتال کے ممکنہ اثرات سے گھریلو صارفین اور کاروباری شعبے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

