تحریر:- ثاقب خان سدوزئی
دنیا کی سیاست میں بعض فیصلے بظاہر ایک معاہدے سے زیادہ نہیں ہوتے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کے اثرات بہت دور تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا حالیہ دفاعی معاہدہ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ دکھائی دیتا ہے۔ مکہ مکرمہ میں ہونے والی اس اہم پیش رفت نے نہ صرف تینوں ممالک کے تعلقات کو ایک نئی اہمیت دی ہے بلکہ یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ کیا مسلم دنیا کے اہم ممالک اب اپنی سکیورٹی کے لیے ایک دوسرے کے مزید قریب آ رہے ہیں؟
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے تعلقات کوئی نئی بات نہیں۔ تینوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے دوستی، سیاسی تعاون اور دفاعی روابط موجود ہیں۔ لیکن موجودہ صورتحال میں ان تعلقات کو ایک مشترکہ دفاعی فریم ورک میں لانا ایک مختلف نوعیت کی پیش رفت ہے۔
اس معاہدے کی بنیادی روح باہمی دفاع اور سکیورٹی تعاون ہے۔ اگر تینوں ممالک میں سے کسی ایک کو مسلح حملے کا سامنا ہوتا ہے تو اسے صرف اس ایک ملک کا مسئلہ نہیں سمجھا جائے گا بلکہ تینوں ممالک کی سلامتی سے جوڑا جائے گا۔ بظاہر یہ ایک سادہ سی بات لگتی ہے، لیکن بین الاقوامی سیاست میں اس طرح کا عزم خاصا اہم ہوتا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے تینوں ممالک ایک دوسرے کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ مشکل وقت میں وہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا پہلے ہی کئی بڑے تنازعات اور سکیورٹی بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں مسلسل کشیدگی ہے، عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلہ بڑھ رہا ہے اور مختلف ممالک اپنی دفاعی پالیسیوں پر نئے سرے سے غور کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا ایک دوسرے کے قریب آنا یقیناً توجہ طلب ہے۔
پاکستان کے لیے سعودی عرب ہمیشہ سے ایک خاص ملک رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات صرف حکومتوں تک محدود نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی ان کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ پاکستان میں سعودی عرب کے لیے ایک خاص احترام پایا جاتا ہے جبکہ سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانی مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
دفاعی میدان میں بھی پاکستان اور سعودی عرب کا تعلق پرانا ہے۔ پاکستانی فوج کے اہلکار سعودی عرب میں مختلف ادوار کے دوران تربیتی اور مشاورتی ذمہ داریاں انجام دیتے رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان فوجی مشقیں اور سکیورٹی تعاون بھی جاری رہا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ نئے معاہدے سے کیا بدلے گا؟
سب سے بڑا فرق یہ ہو سکتا ہے کہ دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات ایک وسیع تر علاقائی فریم ورک کا حصہ بن جائیں۔ اس فریم ورک میں ترکیہ کی شمولیت اسے مزید اہم بنا دیتی ہے۔
ترکیہ آج صرف ایک سیاسی طاقت نہیں بلکہ دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی سے لے کر بحری دفاعی نظام اور جدید فوجی سازوسامان تک ترکیہ نے اپنی دفاعی صنعت میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان پہلے ہی دفاعی تعاون موجود ہے اور دونوں ممالک مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔
اگر مستقبل میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان موجود دفاعی تعاون کو سعودی عرب کے ساتھ بھی جوڑا جاتا ہے تو تینوں ممالک کے لیے کئی نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
یہاں سعودی عرب کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ سعودی عرب کے پاس خطے میں ایک مضبوط معاشی اور سیاسی حیثیت ہے۔ تیل اور توانائی کے وسائل کے ساتھ ساتھ سعودی عرب گزشتہ کچھ عرصے سے اپنی معیشت کو مختلف شعبوں میں پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ دفاع، ٹیکنالوجی، صنعت اور سرمایہ کاری اس نئی اقتصادی حکمت عملی کے اہم حصے ہیں۔
دوسری طرف پاکستان کو سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور معاشی شراکت داری کی ضرورت ہے۔ اگر دفاعی تعاون کے ساتھ اقتصادی تعلقات بھی مضبوط ہوتے ہیں تو تینوں ممالک کے لیے یہ شراکت داری مزید فائدہ مند ہو سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس معاہدے کو صرف ایک فوجی معاہدہ سمجھنا شاید کافی نہیں ہوگا۔ اس کے پیچھے اقتصادی اور سفارتی امکانات بھی موجود ہیں۔
تاہم اس معاہدے کے بعد ایک اصطلاح بہت زیادہ سننے کو مل رہی ہے، اور وہ ہے "مسلم نیٹو”۔
بعض مبصرین اسے مسلم دنیا کے ایک نئے دفاعی اتحاد کی طرف قدم قرار دے رہے ہیں، لیکن حقیقت میں ابھی ایسا کہنا قبل از وقت ہوگا۔ نیٹو ایک مکمل اور باقاعدہ فوجی اتحاد ہے جس کا اپنا مستقل ادارہ جاتی ڈھانچہ، مشترکہ کمانڈ اور کئی دہائیوں پر محیط نظام موجود ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان موجودہ معاہدہ ابھی اس سطح کا اتحاد نہیں ہے۔ اسے تین ممالک کے درمیان مشترکہ دفاعی اور سکیورٹی تعاون کا معاہدہ کہنا زیادہ درست ہوگا۔
البتہ یہ ضرور ہے کہ اگر یہ تعاون مستقبل میں مزید ممالک تک پھیلتا ہے اور تینوں ممالک مشترکہ دفاعی منصوبہ بندی، فوجی مشقوں، انٹیلی جنس تعاون اور دفاعی پیداوار میں مستقل بنیادوں پر آگے بڑھتے ہیں تو اس کی نوعیت موجودہ معاہدے سے کہیں زیادہ وسیع ہو سکتی ہے۔
یہاں ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس معاہدے کا بھارت پر کیا اثر ہوگا؟
پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات پہلے ہی حساس نوعیت کے ہیں۔ دوسری طرف ترکیہ اور پاکستان کے درمیان قریبی تعلقات بھی سب کے سامنے ہیں۔ سعودی عرب کا اس دفاعی تعاون میں شامل ہونا جنوبی ایشیا اور خلیج کے تعلقات کو مزید اہم بنا دیتا ہے۔
لیکن اس معاہدے کو صرف بھارت مخالف اتحاد قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ تینوں ممالک نے اسے دفاعی اور سکیورٹی تعاون کے طور پر پیش کیا ہے اور اس کا مقصد کسی مخصوص ملک کے خلاف محاذ بنانا نہیں بتایا گیا۔
پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہی ہوگا کہ وہ اپنے دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی متوازن تعلقات برقرار رکھے۔
ایران کا معاملہ بھی اسی حوالے سے اہم ہے۔ ایران خطے کی ایک بڑی طاقت ہے اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ تینوں کے ساتھ اس کے مختلف نوعیت کے تعلقات ہیں۔ اس لیے تینوں ممالک کے درمیان کسی بھی بڑے دفاعی تعاون کو ایران نظر انداز نہیں کر سکتا۔
تاہم اگر یہ معاہدہ واقعی دفاعی نوعیت تک محدود رہتا ہے اور اسے کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کے بجائے علاقائی امن اور سکیورٹی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے اس معاہدے کا ایک اور اہم پہلو دفاعی ٹیکنالوجی ہے۔
پاکستان کئی برسوں سے اپنی دفاعی ضروریات کا ایک بڑا حصہ مقامی سطح پر پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ترکیہ اس شعبے میں پاکستان کے لیے ایک اہم شراکت دار بن سکتا ہے۔ ترکیہ نے کم وقت میں اپنی دفاعی صنعت میں جو ترقی کی ہے، اس سے پاکستان بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
دوسری طرف سعودی عرب بھی اپنی دفاعی صلاحیت کو جدید بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔ اگر تینوں ممالک دفاعی پیداوار اور ٹیکنالوجی کے میدان میں مشترکہ منصوبے شروع کرتے ہیں تو اس سے نہ صرف تینوں ممالک کو فائدہ ہوگا بلکہ مسلم دنیا میں دفاعی ٹیکنالوجی کے حوالے سے ایک نیا تعاون بھی سامنے آ سکتا ہے۔
یہاں سے یہ معاہدہ اقتصادی میدان میں بھی داخل ہوتا ہے۔
دفاعی صنعت صرف فوجی ضرورت پوری نہیں کرتی بلکہ اس سے ہزاروں ملازمتیں، صنعتی منصوبے، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور نئی سرمایہ کاری بھی پیدا ہوتی ہے۔ اگر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مشترکہ دفاعی منصوبے شروع کرتے ہیں تو اس کے اقتصادی اثرات بھی کافی اہم ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے سعودی سرمایہ کاری بھی انتہائی اہم ہے۔ ملک کو توانائی، انفراسٹرکچر، صنعت اور دیگر شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب کے پاس سرمایہ کاری کی صلاحیت موجود ہے جبکہ پاکستان کے پاس مختلف شعبوں میں مواقع موجود ہیں۔
ترکیہ بھی پاکستان میں صنعتی اور تجارتی منصوبوں میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اس لیے اگر سیاسی اور دفاعی اعتماد مزید مضبوط ہوتا ہے تو اقتصادی تعلقات میں بھی تیزی آ سکتی ہے۔
لیکن ہر بڑی شراکت داری کی طرح اس معاہدے کے سامنے بھی کچھ مشکلات موجود ہیں۔
سب سے بڑی مشکل تینوں ممالک کی مختلف خارجہ پالیسی ترجیحات ہیں۔ پاکستان کے اپنے علاقائی مسائل ہیں، سعودی عرب کے مشرق وسطیٰ سے متعلق اپنے مفادات ہیں اور ترکیہ بھی ایک ایسی خارجہ پالیسی پر عمل کر رہا ہے جس میں یورپ، مشرق وسطیٰ، ایشیا اور نیٹو کے ساتھ تعلقات سب شامل ہیں۔
اس لیے یہ ضروری ہوگا کہ تینوں ممالک اپنے مشترکہ مفادات کو واضح رکھیں اور ایسے معاملات میں ایک دوسرے کے لیے مشکلات پیدا نہ ہوں جہاں ان کے قومی مفادات مختلف ہوں۔
معاہدے کی کامیابی کا اصل امتحان بھی یہی ہوگا۔
کاغذ پر کیے گئے معاہدے اپنی جگہ اہم ہوتے ہیں، لیکن اصل طاقت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب معاہدے عملی منصوبوں میں تبدیل ہوں۔ اگر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ باقاعدگی سے مشترکہ فوجی مشقیں کرتے ہیں، دفاعی ٹیکنالوجی پر کام کرتے ہیں، انٹیلی جنس تعاون بڑھاتے ہیں اور سکیورٹی کے معاملات پر مستقل رابطہ رکھتے ہیں تو اس معاہدے کی اہمیت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔
دوسری طرف اگر یہ صرف ایک سیاسی اعلان بن کر رہ گیا تو اس کے اثرات محدود ہوں گے۔
یہی وجہ ہے کہ آنے والے چند سال اس معاہدے کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔
ایک دلچسپ امکان یہ بھی ہے کہ مستقبل میں اس تعاون میں مزید ممالک شامل ہونے کی کوشش کریں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو خطے میں ایک نیا علاقائی سکیورٹی نیٹ ورک تشکیل پا سکتا ہے۔ تاہم ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ تعاون کس حد تک پھیل سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے اس پورے معاملے میں سب سے مثبت پہلو یہ ہے کہ اسے سعودی عرب اور ترکیہ دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک نئے انداز میں آگے بڑھانے کا موقع مل رہا ہے۔
پاکستان کو اس وقت معاشی استحکام، سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور مضبوط سفارتی تعلقات کی ضرورت ہے۔ اگر وہ دفاعی تعاون کو اقتصادی اور ٹیکنالوجی تعاون کے ساتھ جوڑنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس معاہدے کے فوائد کافی وسیع ہو سکتے ہیں۔
سعودی عرب کے لیے بھی پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ تعاون اس کی علاقائی سکیورٹی اور دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ بن سکتا ہے۔ ترکیہ کے لیے یہ شراکت داری مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں اس کے کردار کو مزید مضبوط کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
آخر میں بات صرف ایک دفاعی معاہدے کی نہیں بلکہ اعتماد کی ہے۔
بین الاقوامی سیاست میں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ اس وقت ہی طویل مدتی شراکت داری قائم کرتے ہیں جب انہیں یقین ہو کہ مشکل وقت میں دوسرا ملک ان کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حالیہ معاہدہ اسی اعتماد کو ایک باقاعدہ شکل دینے کی کوشش دکھائی دیتا ہے۔
یہ کہنا ابھی مشکل ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں کتنی بڑی تبدیلی لائے گا، لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اب اپنے تعلقات کو محض روایتی دوستی تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں ایک زیادہ منظم اور تزویراتی شراکت داری کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اگر آنے والے برسوں میں تینوں ممالک دفاع کے ساتھ ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، توانائی اور سفارت کاری کے شعبوں میں بھی ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں تو مکہ مکرمہ میں ہونے والا یہ معاہدہ مستقبل میں ایک بڑے علاقائی تعاون کی بنیاد کے طور پر یاد کیا جا سکتا ہے۔
فی الحال سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ پاکستان، سعودی 7عرب اور ترکیہ اس معاہدے کو عملی شکل دینے کے لیے اگلا قدم کیا اٹھاتے ہیں۔ اگر تینوں ممالک اپنے وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ شراکت داری نہ صرف تینوں ممالک کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔

