اسلام آباد(الفجرآن لائن) پاکستان کے بیرونی شعبے کے لیے مالی سال 2027ء کا آغاز حوصلہ افزا پیش رفت کے ساتھ ہوا ہے، جولائی 2026ء میں سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے 3.63 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں، جو گزشتہ سال جولائی کے مقابلے میں 13 فیصد جبکہ جون 2026ء کے مقابلے میں تقریباً 5 فیصد زیادہ ہیں۔
ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافے کو پاکستان کے بیرونی شعبے اور معاشی استحکام کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ یہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ملکی معیشت پر مسلسل اعتماد کا بھی مظہر ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2026ء میں اہم ممالک سے ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
برطانیہ سے ترسیلات میں 23 فیصد، امریکا سے 18 فیصد سے زائد، سعودی عرب سے 11 فیصد، متحدہ عرب امارات سے 11 فیصد سے زائد جبکہ یورپی یونین سے 9 فیصد اضافہ ہوا۔
ماہانہ بنیادوں پر بھی تقریباً تمام بڑے ذرائع سے ترسیلاتِ زر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے رواں مالی سال کے ابتدائی مرحلے میں ترسیلات کے شعبے کی مضبوط کارکردگی سامنے آئی ہے۔
اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2027ء کے لیے ترسیلاتِ زر کا ہدف 44 ارب ڈالر مقرر کیا ہے۔ اس سے قبل مالی سال 2026ء کے دوران پاکستان کو ریکارڈ 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئی تھیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق مالی سال 2027ء کے پہلے ماہ میں ترسیلاتِ زر کا 3.63 ارب ڈالر تک پہنچنا بیرونی کھاتوں پر دباؤ کم کرنے، زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے اور ملکی معاشی استحکام کو مزید تقویت دینے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
ترسیلاتِ زر میں مسلسل اضافے سے نہ صرف پاکستان کی بیرونی مالی پوزیشن مضبوط ہوتی ہے بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ملک کی معیشت میں مسلسل شراکت اور اعتماد بھی نمایاں ہوتا ہے

