احمدخان اچکزئی
محترم قارئین ۔عالمی بساطِ سیاست پر کچھ ممالک اپنی جغرافیائی بناوٹ اور سٹریٹجک محلِ وقوع کی وجہ سے تاریخ کے ہر دور میں عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں اور پاکستان بلاشبہ اس فہرست میں سب سے نمایاں نام بن کر ابھرتا ہے۔ 1947 کے مابعد نوآبادیاتی دور سے لے کر اکیسویں صدی کی جدید ترین جیو پولیٹکس تک، پاکستان کی اہمیت محض ایک حادثہ یا خوش قسمتی نہیں بلکہ ایک ٹھوس، تاریخی اور ناقابلِ تردید جغرافیائی حقیقت ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان واقع یہ خطہ زمین ہمیشہ سے ایک ایسے پُل کا کردار ادا کرتا آیا ہے جس کے بغیر عالمی سیاست، تجارت اور سیکیورٹی کی مساواتیں کبھی مکمل نہیں ہو پائیں۔ سرد جنگ کا زمانہ ہو، افغان بحران کا طویل دورانیہ ہو یا پھر جدید دور میں چین اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی سرد مسابقت، پاکستان ہر بدلتے منظرنامے میں دنیا کے لیے ناگزیر ثابت ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری پاکستان کو نظرانداز کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کی اس غیر معمولی سٹریٹجک مانگ کی پہلی بنیادی وجہ اس کا وہ منفرد محلِ وقوع ہے جو اسے جنوب مشرقی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کو آپس میں جوڑنے والی سب سے قدرتی اور مختصر ترین کڑی بناتا ہے۔ پاکستان کے جنوب میں واقع بحیرہ عرب اور گوادر کی گہرے پانیوں کی بندرگاہ خلیج فارس اور دنیا کی اہم ترین سمندری تجارتی گزرگاہوں یعنی آبنائے ہرمز کے بالکل دہانے پر واقع ہیں۔ اس جغرافیائی برتری کی وجہ سے دنیا کی ابھرتی ہوئی معاشی سپر پاور چین کے لیے پاکستان ایک انتہائی اہم لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ چین اپنی پچاسی فیصد سے زائد تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے طویل اور غیر محفوظ آبنائے ملاکا کا محتاج ہے اور سی پیک (CPEC) کا عظیم الشان منصوبہ اسی جغرافیائی سچائی کا عملی ثبوت ہے جس نے چین کو یوریشیا اور افریقہ تک تجارتی رسائی کا شارٹ کٹ فراہم کیا ہے۔ تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو وسطی ایشیا کی زمین سے گھری ریاستوں کے لیے بھی کھلے سمندر تک پہنچنے کا واحد محفوظ اور اقتصادی راستہ پاکستان ہی کی سرزمین فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان کی مغربی سرحدیں افغانستان کے ساتھ ملتی ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی عالمی برادری کو خطے میں امن قائم کرنا ہوا، انہوں نے ہمیشہ اسلام آباد کا رخ کیا کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے تعاون کے بغیر ایک قدم بھی آگے بڑھانا نامکن پایا۔ اس جیو پولیٹیکل اہمیت کا ایک اور اہم ترین اور منفرد پہلو پاکستان کا مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہونا ہے جس نے خطے میں روایتی حریف کے خلاف طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں تاریخی کردار ادا کیا ہے اور اسے مشرقِ وسطیٰ اور مسلم امہ کی سلامتی کا ایک مضبوط ستون بنا دیا ہے۔ سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے گہرے تزویراتی، عسکری اور برادرانہ تعلقات اور اس کی دو سو چالیس ملین سے زائد آبادی، جس میں اکثریت باصلاحیت نوجوانوں کی ہے، اسے دنیا کی بڑی مارکیٹوں میں شامل کرتی ہے۔ جہاں اس سٹریٹجک محلِ وقوع کے بے پناہ فوائد ہیں، جیسے سی پیک کے ذریعے اربوں ڈالر کی ترانزٹ فیس، معاشی سرمایہ کاری، سفارتی وزن اور توانائی کی راہداری کا حصول، وہاں اس کے شدید نقصانات اور چیلنجز بھی رہے ہیں۔ بیرونی طاقتوں کی جنگوں (جیسے افغان جہاد اور وار آن ٹیرر) کا فرنٹ لائن سٹیٹ بننے کی وجہ سے پاکستان کو طویل عرصے تک انتہا پسندی، دہشت گردی اور اربوں ڈالر کے جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے ساتھ ہی چین اور امریکہ کی عالمی سرد جنگ کے درمیان توازن برقرار رکھنے کا شدید سفارتی دباؤ اور بیرونی قوتوں کی جانب سے پاکستان کے سرحدی علاقوں، خاص کر بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشیں اس جغرافیے کے منفی اثرات ہیں۔ اگر پاکستان اپنی اندرونی سیاسی و معاشی پالیسیوں کو مضبوط کر لے، تو وہ ان چیلنجز پر قابو پا کر اپنے جغرافیے کو دنیا کے لیے ایک عظیم معاشی قوت میں تبدیل کر سکتا ہے۔
