احمدخان اچکزئی
محترم قارئین ۔ افغانستان کی تاریخ ہمیشہ سے ہی محلاتی سازشوں، خونی جنگوں، تخت نشینی کے ہولناک معرکوں، قبائلی عصبیتوں اور عبرت انگیز انجام کا ایک ایسا تسلسل رہی ہے جس نے نہ صرف خطے کے سیاسی جغرافیے کو بدل کر رکھ دیا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی عبرت کے ان گنت تازیانے چھوڑے۔ اس تاریخی ڈرامے کا ایک انتہائی دردناک، حیران کن اور عجیب و غریب باب وہ ہے جسے تاریخ میں افغان بادشاہ محمد نادر شاہ کے بہیمانہ قتل کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ محمد نادر شاہ، جو ۹ اپریل ۱۸۸۳ء کو پیدا ہوئے، تاریخِ افغانستان کے ایک ایسے موڑ پر نمودار ہوئے جب پورا ملک ۱۹۲۸ء سے ۱۹۲۹ء کی ہولناک اور تباہ کن افغان خانہ جنگی کی آگ میں جھلس رہا تھا اور مرکزیت کا شیرازہ بالکل بکھر چکا تھا۔ نادر شاہ نے اپنی عسکری مہارت، سیاسی حکمتِ عملی اور قبائلی اثر و رسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے اس بدترین خانہ جنگی کا خاتمہ کیا اور فتح و نصرت کا پرچم لہراتے ہوئے ۱۹۲۹ء میں کابل کے شاہی تخت پر متمکن ہو کر افغانوں کی باقاعدہ باگ ڈور سنبھالی۔ بادشاہ بننے سے قبل ان کا ماضی انتہائی متحرک، بااثر اور کثیر الجہتی نوعیت کا تھا، کیونکہ وہ افغان مملکت کے وزیرِ جنگ، فرانس میں افغانستان کے بااعتماد سفیر اور شاہی افغان فوج کے ایک انتہائی طاقتور، تجربہ کار اور نامور جنرل کے عہدوں پر فائز رہ چکے تھے، جس کی وجہ سے انہیں امورِ سلطنت اور فوج کے رگ و ریشے پر مکمل عبور حاصل تھا۔ وہ اور ان کے بعد تخت نشین ہونے والے ان کے جواں سال بیٹے محمد ظاہر شاہ، افغانستان کے مشہور اور بااثر "مصاحبان” شاہی خاندان کے نمایاں ارکان تھے جنہوں نے طویل عرصے تک اس سرزمین پر حکمرانی کے فرائض سرانجام دیے۔
نادر شاہ کی حکومت بظاہر مستحکم ہو رہی تھی، لیکن اندرونی طور پر انتقام، محرومی اور شدید ترین نفرت کے لاوے ابل رہے تھے جن کا دھماکہ خیز اختتام ۸ نومبر ۱۹۳۳ء کو کابل کے انتہائی محفوظ تصور کیے جانے والے شاہی محل کے اندر ہوا۔ اس دن محل کے وسیع و عریض احاطے میں "نجات ہائی اسکول” کے ہونہار طلبہ کے لیے ایک پروقار اور پرجوش تقریبِ تقسیمِ اسناد منعقد کی جا رہی تھی، جہاں بادشاہ خود طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے انعامات اور اسناد تقسیم کر رہے تھے۔ اسی ہجوم میں عبد الخالق ہزارہ نامی ایک محض ۱۶ سالہ طالب علم بھی موجود تھا، جس کے سینے میں مظالم کی ایک ایسی داستان دفن تھی جس نے اسے ایک خوفناک قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ جیسے ہی تقریب اپنے عروج پر پہنچی، عبد الخالق ہزارہ سیکیورٹی کے تمام حصاروں کو توڑتا ہوا ہجوم سے اچانک نمودار ہوا اور انتہائی پھرتی کے ساتھ بالکل قریب سے بادشاہ محمد نادر شاہ پر پے در پے کئی گولیاں چلا دیں، جس کے نتیجے میں بادشاہ وہیں تڑپ کر زمین پر گر گیا۔ یہ خونی واقعہ محض ایک جذباتی نوجوان کا انفرادی اقدام نہیں تھا، بلکہ یہ ایک انتہائی طے شدہ، منظم اور تاریخی طور پر گہرے اثرات کا حامل واقعہ تھا جس نے شاہی خاندان کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔اس ہولناک قتل کے فورا بعد عبد الخالق ہزارہ کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا، اور جب تفتیش کے بند دروازے کھلے تو معلوم ہوا کہ اس سنگین اقدام کی اصل وجہ اقتدار کی بے رحمی کے خلاف انتقام کی وہ شدید آگ تھی جو اس کے دل میں دہک رہی تھی۔ دراصل، عبد الخالق کے خاندان، قریبی عزیزوں اور اس کے ہمدرد ساتھیوں کو نادر شاہ کے دورِ حکومت میں بدترین اور غیر انسانی مظالم کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں سابق نامور افغان سفارت کار غلام نبی چرخئی کا ماورائے عدالت اور بے دردی سے کیا جانے والا قتل بھی شامل تھا، جس نے ملک کے کثیر حلقوں میں شدید اشتعال پھیلا رکھا تھا۔ مزید سلطنت کے ہاتھوں ہزارہ برادری پر ڈھائے جانے والے مظالم، ماورائے عدالت قتل عام، جبری گمشدگیوں اور کمر توڑ دینے والے ظالمانہ ٹیکسوں کے جبری نفاذ نے عبد الخالق ہزارہ کے غصے اور انتقامی جذبے کو اس حد تک جنونی بنا دیا تھا کہ اس نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر شاہی محل کے اندر اس خوفناک واقعے کو انجام دیا۔ اس قتل کے بعد سلطنت کا ردِعمل انتہائی بھیانک اور سفاکانہ تھا؛ عبد الخالق ہزارہ، اس کے معصوم خاندان کے متعدد ارکان اور اس کے قریبی دوستوں کو فوری طور پر حراست میں لے کر بدترین اور انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر پوری بربریت کے ساتھ سرِعام موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔مگر اس اچانک اور ہولناک سیاسی خلا کے باوجود شاہی خاندان نے اقتدار پر اپنی گرفت کمزور نہیں ہونے دی، اور محمد نادر شاہ کی اچانک موت کے فورا بعد ان کے محض ۱۹ سالہ نوجوان بیٹے نے سلطنت کا تخت و تاج سنبھالا، جو تاریخِ افغانستان میں شاہ محمد ظاہر شاہ کے نام سے نئے افغان بادشاہ بنے اور جنہوں نے بعد میں کئی دہائیوں تک افغانستان پر حکومت کی۔ قتل کے بعد مرحوم افغان بادشاہ محمد نادر شاہ کی میت کو پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ کابل کی مشہورِ زمانہ نادر خان پہاڑی پر، جسے مقامی زبان میں مرنجان پہاڑی بھی کہا جاتا ہے، ہمیشہ کے لیے سپردِ خاک کر دیا گیا، جہاں ان کا مقبرہ آج بھی اقتدار کے عروج و زوال کی داستان سناتا ہے۔حکمران اقتیدار اور اصل حقیقت جو تاریخ کبھی بھی فراموش نہیں کرتے ہیں۔
محترم قارئین ۔ افغانستان کی تاریخ ہمیشہ سے ہی محلاتی سازشوں، خونی جنگوں، تخت نشینی کے ہولناک معرکوں، قبائلی عصبیتوں اور عبرت انگیز انجام کا ایک ایسا تسلسل رہی ہے جس نے نہ صرف خطے کے سیاسی جغرافیے کو بدل کر رکھ دیا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی عبرت کے ان گنت تازیانے چھوڑے۔ اس تاریخی ڈرامے کا ایک انتہائی دردناک، حیران کن اور عجیب و غریب باب وہ ہے جسے تاریخ میں افغان بادشاہ محمد نادر شاہ کے بہیمانہ قتل کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ محمد نادر شاہ، جو ۹ اپریل ۱۸۸۳ء کو پیدا ہوئے، تاریخِ افغانستان کے ایک ایسے موڑ پر نمودار ہوئے جب پورا ملک ۱۹۲۸ء سے ۱۹۲۹ء کی ہولناک اور تباہ کن افغان خانہ جنگی کی آگ میں جھلس رہا تھا اور مرکزیت کا شیرازہ بالکل بکھر چکا تھا۔ نادر شاہ نے اپنی عسکری مہارت، سیاسی حکمتِ عملی اور قبائلی اثر و رسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے اس بدترین خانہ جنگی کا خاتمہ کیا اور فتح و نصرت کا پرچم لہراتے ہوئے ۱۹۲۹ء میں کابل کے شاہی تخت پر متمکن ہو کر افغانوں کی باقاعدہ باگ ڈور سنبھالی۔ بادشاہ بننے سے قبل ان کا ماضی انتہائی متحرک، بااثر اور کثیر الجہتی نوعیت کا تھا، کیونکہ وہ افغان مملکت کے وزیرِ جنگ، فرانس میں افغانستان کے بااعتماد سفیر اور شاہی افغان فوج کے ایک انتہائی طاقتور، تجربہ کار اور نامور جنرل کے عہدوں پر فائز رہ چکے تھے، جس کی وجہ سے انہیں امورِ سلطنت اور فوج کے رگ و ریشے پر مکمل عبور حاصل تھا۔ وہ اور ان کے بعد تخت نشین ہونے والے ان کے جواں سال بیٹے محمد ظاہر شاہ، افغانستان کے مشہور اور بااثر "مصاحبان” شاہی خاندان کے نمایاں ارکان تھے جنہوں نے طویل عرصے تک اس سرزمین پر حکمرانی کے فرائض سرانجام دیے۔
نادر شاہ کی حکومت بظاہر مستحکم ہو رہی تھی، لیکن اندرونی طور پر انتقام، محرومی اور شدید ترین نفرت کے لاوے ابل رہے تھے جن کا دھماکہ خیز اختتام ۸ نومبر ۱۹۳۳ء کو کابل کے انتہائی محفوظ تصور کیے جانے والے شاہی محل کے اندر ہوا۔ اس دن محل کے وسیع و عریض احاطے میں "نجات ہائی اسکول” کے ہونہار طلبہ کے لیے ایک پروقار اور پرجوش تقریبِ تقسیمِ اسناد منعقد کی جا رہی تھی، جہاں بادشاہ خود طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے انعامات اور اسناد تقسیم کر رہے تھے۔ اسی ہجوم میں عبد الخالق ہزارہ نامی ایک محض ۱۶ سالہ طالب علم بھی موجود تھا، جس کے سینے میں مظالم کی ایک ایسی داستان دفن تھی جس نے اسے ایک خوفناک قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ جیسے ہی تقریب اپنے عروج پر پہنچی، عبد الخالق ہزارہ سیکیورٹی کے تمام حصاروں کو توڑتا ہوا ہجوم سے اچانک نمودار ہوا اور انتہائی پھرتی کے ساتھ بالکل قریب سے بادشاہ محمد نادر شاہ پر پے در پے کئی گولیاں چلا دیں، جس کے نتیجے میں بادشاہ وہیں تڑپ کر زمین پر گر گیا۔ یہ خونی واقعہ محض ایک جذباتی نوجوان کا انفرادی اقدام نہیں تھا، بلکہ یہ ایک انتہائی طے شدہ، منظم اور تاریخی طور پر گہرے اثرات کا حامل واقعہ تھا جس نے شاہی خاندان کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔اس ہولناک قتل کے فورا بعد عبد الخالق ہزارہ کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا، اور جب تفتیش کے بند دروازے کھلے تو معلوم ہوا کہ اس سنگین اقدام کی اصل وجہ اقتدار کی بے رحمی کے خلاف انتقام کی وہ شدید آگ تھی جو اس کے دل میں دہک رہی تھی۔ دراصل، عبد الخالق کے خاندان، قریبی عزیزوں اور اس کے ہمدرد ساتھیوں کو نادر شاہ کے دورِ حکومت میں بدترین اور غیر انسانی مظالم کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں سابق نامور افغان سفارت کار غلام نبی چرخئی کا ماورائے عدالت اور بے دردی سے کیا جانے والا قتل بھی شامل تھا، جس نے ملک کے کثیر حلقوں میں شدید اشتعال پھیلا رکھا تھا۔ مزید سلطنت کے ہاتھوں ہزارہ برادری پر ڈھائے جانے والے مظالم، ماورائے عدالت قتل عام، جبری گمشدگیوں اور کمر توڑ دینے والے ظالمانہ ٹیکسوں کے جبری نفاذ نے عبد الخالق ہزارہ کے غصے اور انتقامی جذبے کو اس حد تک جنونی بنا دیا تھا کہ اس نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر شاہی محل کے اندر اس خوفناک واقعے کو انجام دیا۔ اس قتل کے بعد سلطنت کا ردِعمل انتہائی بھیانک اور سفاکانہ تھا؛ عبد الخالق ہزارہ، اس کے معصوم خاندان کے متعدد ارکان اور اس کے قریبی دوستوں کو فوری طور پر حراست میں لے کر بدترین اور انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر پوری بربریت کے ساتھ سرِعام موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔مگر اس اچانک اور ہولناک سیاسی خلا کے باوجود شاہی خاندان نے اقتدار پر اپنی گرفت کمزور نہیں ہونے دی، اور محمد نادر شاہ کی اچانک موت کے فورا بعد ان کے محض ۱۹ سالہ نوجوان بیٹے نے سلطنت کا تخت و تاج سنبھالا، جو تاریخِ افغانستان میں شاہ محمد ظاہر شاہ کے نام سے نئے افغان بادشاہ بنے اور جنہوں نے بعد میں کئی دہائیوں تک افغانستان پر حکومت کی۔ قتل کے بعد مرحوم افغان بادشاہ محمد نادر شاہ کی میت کو پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ کابل کی مشہورِ زمانہ نادر خان پہاڑی پر، جسے مقامی زبان میں مرنجان پہاڑی بھی کہا جاتا ہے، ہمیشہ کے لیے سپردِ خاک کر دیا گیا، جہاں ان کا مقبرہ آج بھی اقتدار کے عروج و زوال کی داستان سناتا ہے۔حکمران اقتیدار اور اصل حقیقت جو تاریخ کبھی بھی فراموش نہیں کرتے ہیں۔
