احمدخان اچکزئی
محترم قارئین ۔برصغیر کی تاریخ میں برطانوی راج نے صرف فوجی طاقت کے ذریعے حکومت قائم نہیں رکھی بلکہ اس نے سماجی اور سیاسی اثرورسوخ کا ایک ایسا نظام بھی تشکیل دیا جس میں نواب، سردار، خان بہادر، ملک اور سر جیسے اعزازی القابات کو ایک اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔
یہ خطابات بظاہر عزت اور وقار کی علامت تھے، لیکن ان کے پیچھے ایک ایسی سیاسی حکمت عملی کارفرما تھی جس کا مقصد مقامی بااثر خاندانوں اور قبائلی عمائدین کو نوآبادیاتی اقتدار کے ساتھ جوڑنا تھا۔برطانوی حکومت نے مختلف علاقوں میں ایسے افراد کو نمایاں مقام دیا جو مقامی آبادی پر اثر رکھتے تھے۔ ان میں جاگیردار، قبائلی سردار، بڑے زمیندار اور مذہبی شخصیات شامل تھیں۔ انہیں زمینیں، مراعات، پنشن، اعزازات اور بعض اوقات مستقل مالی وظائف بھی دیے جاتے تھے تاکہ مقامی سطح پر برطانوی انتظامیہ کو مزاحمت کے بجائے تعاون حاصل رہے۔ اسی وجہ سے بہت سے القابات سیاسی وفاداری کی علامت بن گئے۔تاریخی دستاویزات، جیسے کہ لیپل ایچ گرفن کی کتاب "The Punjab Chiefs”(پنجاب کے رؤسا) اور نوآبادیاتی دور کے سرکاری گزٹیئرز اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ انگریزوں نے کس طرح جاگیریں تقسیم کیں۔
مثال کے طور پر، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں میں برطانوی ہند کے خارجہ امور کے سیکرٹری سر ہنری ڈورنڈ کی پالیسیوں کے تحت قبائلی ملکوں اور سرداروں کو "سرحدی الاؤنس” (Frontier Allowances) اور "سیاسی پنشن” دی جاتی تھی تاکہ وہ افغان سرحد پر برطانوی مفادات کی چوکیداری کریں۔خان یا بہادُر کا خطاب خصوصاً ان سول افسران یا بااثر افراد کو دیا جاتا تھا جنہیں حکومت اپنی انتظامی یا سماجی خدمات کے لیے قابلِ اعتماد سمجھتی تھی۔ اسی طرح نواب کا لقب بعض ریاستی حکمرانوں، جاگیرداروں یا وفادار اشرافیہ کو عطا کیا جاتا تھا، جبکہ "سر” کا خطاب برطانوی تاج کی جانب سے نائٹ ہڈ کی صورت میں ایک اعلیٰ اعزاز تھا، جیسے سر نواب بہاول خان (والیِ بہاولپور) یا سر شاہنواز بھٹو، جنہیں انگریز حکومت نے سندھ میں ان کی خدمات کے عوض سیاسی و سماجی طور پر مضبوط کیا۔
سردار اور ملک جیسے القابات کئی علاقوں میں پہلے سے رائج تھے، تاہم برطانوی دور میں "سند یافتہ سردار” بنا کر انہیں تمن داری اور ذیلداری کے نظام کے تحت سرکاری شناخت اور عدالتی و مالیاتی اختیارات (جیسے لیوی ٹیکس جمع کرنا) کے ساتھ مزید مضبوط کیا گیا۔یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ نوآبادیاتی حکومت نے "تقسیم کرو اور حکومت کرو” (Divide and Rule) کی پالیسی کے تحت مقامی قیادت کو مختلف مراعات دے کر اپنے اقتدار کو مستحکم کیا۔ بعض خاندان نسل در نسل حکومتی سرپرستی، انگریزوں کی عطاء کردہ سچی اراضی اور نہری نوآبادیات (Canal Colonies) میں ہزاروں ایکڑ الاٹمنٹ سے مستفید ہوتے رہے، جس سے ان کی سماجی حیثیت مزید مضبوط ہوئی۔ جنوبی پنجاب اور سندھ کے وڈیرے اور گدی نشین، اور بلوچستان کے تمن دار اس کی واضح ترین مثالیں ہیں، جنہیں وفاداری کے بدلے تاجِ برطانیہ نے وسیع زرعی اراضی کا مستقل مالک بنا دیا۔ اس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں عام عوام اور مراعات یافتہ طبقے کے درمیان فاصلے بڑھ گئے، اور طبقاتی خلیج گہری ہوتی چلی گئی۔۔
دوسری طرف ایسے حریت پسند بھی موجود تھے جنہوں نے برطانوی حکومت سے کسی بھی قسم کا اعزاز یا جاگیر قبول کرنے کے بجائے آزادی کی جدوجہد کو ترجیح دی اور اس کی بھاری قیمت قید، کالا پانی کی سزا، جلاوطنی یا جان کی قربانی کی صورت میں ادا کی۔برصغیر کی تاریخ کا ایک حیران کن پہلو یہ ہے کہ بعض خاندانوں کے لیے یہ خطابات اور انگریز دور کی دی گئی جاگیریں صرف اعزاز نہیں بلکہ مستقل سیاسی سرمایہ بن گئے۔ اگر ہم پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا جائزہ لیں، تو 1947ء سے لے کر آج تک اسمبلیوں میں بیٹھے پچاس فیصد سے زائد جاگیردار اور سردار انہی خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جن کے آباؤ اجداد کو انگریزوں نے زمینیں اور القابات دیے تھے۔ آزادی کے بعد بھی کئی علاقوں میں لینڈ ریفارمز (زرعی اصلاحات) کی ناکامی کی بڑی وجہ یہی اثرورسوخ تھا، جس کے باعث یہ خاندان آج بھی ہزاروں ایکڑ اراضی کے مالک ہیں اور ان کی خاندانی شناختوں نے انتخابی سیاست، مقامی قیادت اور سماجی اثرورسوخ کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ یوں ایک نوآبادیاتی انتظامی حکمت عملی کے اثرات کئی دہائیوں بعد بھی مختلف صورتوں میں دکھائی دیتے رہے ہیں۔ اسی تناظر میں برطانوی دور کے نواب، سردار، خان بہادر، ملک اور سر جیسے القابات کو محض جذباتی نہیں بلکہ تحقیقی اور تنقیدی نگاہ سے دیکھنا چاہیے تاکہ ماضی کی حقیقت کو توازن اور دیانت داری کے ساتھ سمجھا جا سکے اور یہ جانا جا سکے کہ آج کی سیاست کے تانے بانے ماضی کے کس نوآبادیاتی نظام سے جڑے ہوئے ہیں۔
