پرنٹ میڈیا کی آزادی پر کسی قسم کی قدغن قبول نہیں، حکومت فوری نظرثانی کرے
کوئٹہ(الفجرآن لائن) خدمتِ خلق فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کے چیئرمین صدارتی تمغہ امتیاز یافتہ اور عالمی شہرت یافتہ سماجی شخصیت نعمت اللہ ظہیر نے بلوچستان حکومت کی مجوزہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے اسے صحافت کے خلاف اقدام اور آزادیِ اظہار پر قدغن قرار دیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس پالیسی کو فوری طور پر منسوخ کرکے تمام صحافتی تنظیموں، میڈیا نمائندوں اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد کوئی بھی فیصلہ کیا جائے۔ اپنے ایک بیان میں نعمت اللہ ظہیر نے کہا کہ آزاد صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کا بنیادی ستون ہوتی ہے اور میڈیا کو محدود کرنے کی ہر کوشش درحقیقت عوام کے حقِ معلومات پر حملہ تصور کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان جیسے حساس اور وسیع صوبے میں پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا عوام اور حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہیں، لہٰذا ایسے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے جو صحافتی اداروں اور کارکنوں میں بے چینی پیدا کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا کی آزادی پر کسی قسم کی قدغن قبول نہیں کی جا سکتی۔ اخبارات اور صحافتی اداروں نے ہمیشہ قومی مفاد، جمہوری اقدار اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر میڈیا کے دائرہ کار کو محدود کیا گیا تو اس کے منفی اثرات نہ صرف صحافتی برادری بلکہ مجموعی معاشرے پر بھی مرتب ہوں گے۔نعمت اللہ ظہیر نے کہا کہ بلوچستان حکومت کو ایسے فیصلوں سے قبل صحافتی تنظیموں، ایڈیٹرز کونسلز، پریس کلبز اور میڈیا نمائندوں کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔ یکطرفہ پالیسیوں سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور میڈیا کے درمیان باہمی احترام، مشاورت اور تعاون کا ماحول قائم رہنا ضروری ہے تاکہ عوامی مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ وہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے صحافتی برادری کے تحفظات دور کریں اور ایسے اقدامات سے اجتناب کریں جو آزادیِ صحافت کے حوالے سے منفی تاثر پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ خدمتِ خلق فاؤنڈیشن انٹرنیشنل ملک میں آزاد، ذمہ دار اور مثبت صحافت کے فروغ کی ہمیشہ حمایت کرتی رہے گی اور صحافیوں کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی اور جمہوری آواز کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
