ایبٹ آباد (الفجرآن لائن) خیبر پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد میں طوفانی بارشوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے باعث ندی نالوں میں شدید طغیانی آ گئی، شہری علاقوں میں پانی داخل ہو گیا جبکہ مختلف حادثات میں جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔
میڈیارپورٹس کے مطابق شدید بارش کے دوران چہلہ کے مقام پر ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں سکول سے واپسی کے دوران تین بچیاں برساتی ندی عبور کرتے ہوئے پانی کے تیز بہاؤ میں بہہ گئیں۔
ریسکیو ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے دو بچیوں کی لاشیں نکال لی ہیں جبکہ تیسری بچی کی تلاش کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔بارش کے باعث ایبٹ آباد شہر کی اہم شاہراہیں زیر آب آ گئیں اور کئی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا۔
شاہراہ ریشم سمیت متعدد مرکزی سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں، جبکہ بلال ٹاؤن، حسن ٹاؤن، نیازی کالونی اور ایوب روڈ سمیت مختلف رہائشی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہو گیا۔
جس سے شہریوں کا سامان اور گاڑیاں متاثر ہوئیں۔شدید موسلا دھار بارش کے باعث بیرن گلی میں ایک سکول کی عمارت بھی منہدم ہو گئی، تاہم واقعے میں کسی جانی نقصان کی فوری اطلاع نہیں ملی۔
دوسری جانب بالائی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث متعدد رابطہ سڑکیں بند ہو گئیں، جس سے کئی علاقوں کا زمینی رابطہ متاثر ہوا۔دیہی علاقوں میں بارش اور تیز ہواؤں کے باعث بجلی کے متعدد پول گر گئے، جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔
ضلعی انتظامیہ اور کمشنر ہزارہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ خراب موسمی حالات کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، برساتی ندی نالوں، پانی کے تیز بہاؤ والے مقامات اور خطرناک علاقوں سے دور رہیں اور حفاظتی اقدامات پر مکمل عملدرآمد کریں۔
انتظامیہ کے مطابق امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ متاثرہ علاقوں میں صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے

