حب (الفجرآن لائن)کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء نے اپنے انتظامی عہدے کا چارج سنبھالتے ہی بھرپور ایکشن کا آغاز کر دیا ہے۔ انہوں نے سرکاری محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے طوفانی دورے شروع کر دیے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے لسبیلہ انڈسٹریل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (لیڈا) حب کا اہم دورہ کیا۔ دورے کے دوران ایم ڈی لیڈا لیاقت علی کاشانی نے کمشنر کو اتھارٹی کی منیجمنٹ ذمہ داریوں، درپیش مسائل اور جاری ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ صنعتی شعبے کی ترقی اور ساحلی پٹی گڈانی کے ماسٹر پلان کے حوالے سے ہونے والی اس بیٹھک میں اہم فیصلے بھی زیر غور آئے۔
دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء نے کہا کہ بلوچستان میں انڈسٹریلائزیشن کے عمل کو تیز کرنے اور ٹیکس ریونیو جنریشن کے حوالے سے ‘لیڈا’ کلیدی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے صنعتی فروغ کے لیے لیڈا مینجمنٹ کے اقدامات کو سراہتے ہوئے اسے صوبے کی ترقی کے لیے ایک بڑا اور اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان معدنی وسائل کے ساتھ ساتھ اب صنعتی شعبے میں بھی ایک نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔
ایم ڈی لیڈا لیاقت علی کاشانی نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ ساحلی پٹی گڈانی میں صنعتی شعبے کی تیز رفتار ترقی کے لیے ماسٹر پلان کی کنسلٹنسی پر کام تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کراچی سے نزدیک ترین ہونے کی وجہ سے یہ اسپیشل اکنامک زون اور گڈانی انڈسٹریل سائٹ انفراسٹرکچر، بنیادی سہولیات اور سیکیورٹی کے لحاظ سے سرمایہ کاری کے لیے موزوں ترین مقام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک بھر کے صنعت کار لیڈا اسپیشل اکنامک زون میں سرمایہ کاری کے لیے گہری دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ لیڈا انڈسٹریل زون میں صنعتوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے گریڈ اسٹیشن منصوبے پر کام جاری ہے، تاہم اس پراجیکٹ کی بروقت تکمیل وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز کے اجراء سے ہی ممکن ہے۔ بریفنگ کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ بلوچستان کو ایف بی آر کی جانب سے 200 بلین روپے کا ٹیکس ریونیو شیئر ملا ہے۔ لیڈا حکام کا کہنا تھا کہ وہ انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولیات فراہم کر کے سرمایہ کاروں کے لیے ہر ممکن سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے مکمل تیار ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان کی خصوصی ہدایات پر ‘لیڈا’ نے صوبے میں بند صنعتوں کے حوالے سے ایک جامع پالیسی مرتب کر لی ہے۔ اس پالیسی کے تحت بند صنعتوں کی بحالی سے جہاں روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہوں گے، وہیں ٹیکس ریونیو جنریشن میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔ کمشنر لسبیلہ ڈویژن نے ریونیو بڑھانے کے لیے ایسے مزید منصوبے تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا جس سے صوبے کے ذاتی وسائل میں اضافہ ہو۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ اس سلسلے میں حکومت تمام سرمایہ کاروں کو فول پروف سیکیورٹی اور ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی

