آئی آر جی سی نے امریکی کارروائی کو جنگ بندی اور مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دے دیا، مزید حملوں پر سخت ردعمل کی دھمکی
تہران(الفجر آن لائن) ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی ساحلی علاقوں پر امریکی فضائی حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی فوجی تعیناتی کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔آئی آر جی سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اس سے قبل ایرانی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے ایک مبینہ "غیر مجاز” راستے سے گزرنے والے تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا تھا، تاہم امریکہ نے اسے جواز بنا کر ایران کے ساحلی علاقوں پر فضائی حملے کیے۔بیان میں امریکی کارروائی کو جنگ بندی اور دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ اس کے ردعمل میں خطے میں موجود امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
تاہم آئی آر جی سی نے حملے کے اہداف، مقام، نوعیت یا ممکنہ جانی و مالی نقصان سے متعلق کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں، جبکہ اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق بھی نہیں ہو سکی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے آرٹیکل 5 کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی نگرانی اور کنٹرول ایران کی ذمہ داری ہے۔پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف مزید حملے کیے تو تہران کا ردعمل پہلے سے زیادہ وسیع اور سخت ہوگا، جس کی تمام تر ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوگی۔
