بیروت( الفجرآن لائن، ویب ڈیسک) حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے اسرائیل لبنان سیکورٹی معاہدے کو باضابطہ طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے اسرائیل کے سامنے خودمختاری کا "شرمناک سودا” قرار دیا ہے۔ واشنگٹن ڈی سی میں معاہدے پر دستخط ہونے کے محض ایک روز بعد جاری ہونے والے اس بیان میں حزب اللہ نے تمام تر شرائط کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
حزب اللہ کی جانب سے سب سے بڑا اعتراض اس شق پر اٹھایا گیا ہے جس میں مرحلہ وار اسرائیلی فوجی انخلا کو حزب اللہ کے مکمل غیر مسلح ہونے سے مشروط کیا گیا ہے۔ نعیم قاسم نے اس شرط کو ریڈ لائنز کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے معاہدے کو "کالعدم” مانا ہے اور لبنانی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اس نے یکطرفہ رعایتیں دے کر جنوبی لبنان میں اسرائیلی سیکورٹی زون کو قانونی حیثیت دی ہے۔ حزب اللہ کا اصرار ہے کہ جون کے اوائل میں ہونے والی امریکہ ایران یادداشتِ تفاهم ہی تنازع کے خاتمے کا واحد راستہ ہونی چاہیے۔
اس سیاسی ڈیڈ لاک کے بعد بیروت کی سڑکوں پر شدید احتجاج شروع ہو گیا ہے، جہاں حزب اللہ کے حامیوں نے ٹائر جلا کر ایئرپورٹ ہائی وے کو بلاک کر دیا ہے۔ دوسری طرف، معاہدے کے باوجود سرحدی کشیدگی برقرار ہے اور اسرائیلی فوج نے نئے سیکورٹی زون کے قریب ڈرون حملہ کیا ہے۔ اس صورتحال نے لبنان کی اندرونی سیاست کو شدید تقسیم کر دیا ہے، جہاں حزب اللہ نے خانہ جنگی کے خطرات سے خبردار کیا ہے، جبکہ اپوزیشن دھڑوں نے اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے بیرونی مداخلت سے آزادی کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔
