فرانس(ویب ڈیسک) غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق فرانس کے شمال مشرقی علاقے میں اتوار کے روز اسکائی ڈائیونگ کا ایک سویلین طیارہ گر کر تباہ ہو گیا۔ جس کے نتیجے میں پائلٹ سمیت سوار تمام 11 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ یہ افسوسناک حادثہ نینسی شہر کے قریبی قصبے تومبلین میں نینسی-ایسی ہوائی اڈے کے قریب پیش آیا۔ حکام کے مطابق طیارے میں پائلٹ کے علاوہ اسکائی ڈائیونگ اسکول کے 5 انسٹرکٹرز اور پہلی بار ٹینڈم جمپنگ کا تجربہ کرنے والے 5 مقامی طلبہ سوار تھے، جو پیشے کے لحاظ سے مقامی نرسیں بتائی جاتی ہیں۔ طیارہ ایک سائیکل ٹریک اور رہائشی علاقے کے قریب گرا، تاہم خوش قسمتی سے زمین پر موجود کوئی بھی شہری اس کی زد میں نہیں آیا۔
جرمنی میں رجسٹرڈ یہ سنگل انجن پروپیلر طیارہ سوئس کمپنی پیلاٹس کا تیار کردہ تھا، جو عام طور پر پیراشوٹ جمپنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق طیارے نے اتوار کی صبح مقامی وقت کے مطابق تقریباً 11 بجے پرواز بھری تھی، لیکن ٹیک آف کے فوراً بعد ہی اس میں کوئی فنی خرابی یا نقصان ظاہر ہوا اور وہ عمودی پوزیشن میں تیزی سے زمین کی طرف آ گرا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیموں نے جائے حادثہ پر پہنچ کر لاشوں کو منتقل کیا اور ملبے کو گھیرے میں لے لیا۔
فرانسیسی وزارتِ داخلہ اور نینسی کے پبلک پراسیکیوٹر نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے باقاعدہ تکنیکی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نونیز اور علاقائی پریفیکٹ ایو سیگوئے نے خود جائے حادثہ کا دورہ کر کے امدادی کاموں کا جائزہ لیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر طیارہ چند میٹر کے فاصلے پر گرتا تو قریبی شاپنگ سینٹر یا رہائشی گھروں کی وجہ سے بڑا جانی نقصان ہو سکتا تھا، جبکہ متاثرہ خاندانوں کی ذہنی اور طبی مدد کے لیے ہوائی اڈے پر کونسلنگ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں۔
