(محمد عاصم صدیقی )
آزادی ۔۔۔صرف ایک لفظ نہیں یہ ہمارےآباؤ اجداد کی اُن قربانیوں کی امانت ہے جنہوں نے پاکستان کو خودمختار شناخت اور آزاد فضائیں عطا کیں۔ یومِ آزادی ہمیں اس عہد کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ وطنِ عزیز کی سلامتی اور دفاع کو ہر دور کے تقاضوں کے مطابق مزید مضبوط بنایا جائے۔ دناج بدل چکی ہے۔ بنس الاقوامی سا ست، معشتی، سفارت کاری، ٹکنا لوجی اور فصلہ سازی کے رواییز تصورات ایک نئے عالمی نظام مںن ڈھل چکے ہںا اور اسی تبدیی نے جنگ کی نوعت کو بھی بنا دی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ اکسوطیں صدی کی جنگں اب صرف ہتھایروں کی برتری کا مقابلہ نہںک رہںٹ بلکہ معلومات، مصنوعی ذہانت، سائبر صلاحتودں، الکٹراانک وارفئر ، خلائی نظام اور برق رفتار فصلہی سازی کا امتحان بن چکی ہں،۔
حالیہ معرکے اب صرف زمنب، سمندر اور فضا تک محدود نہںی رہے بلکہ معلوماتی ماحول، سائبر، اسپسا اور خلائی نظام بھی جنگ کے مستقل محاذ بن چکے ہںک۔ ایسے ماحول مںن کاماربی عسکری شعبوں کو ملٹی ڈومین نظام مںس تبدیل کرنے کی صلاحتظ سے مشروط ہے۔پاک فضائیہ نے اسی بدلتے ہوئے جنگی منظرنامے کو بروقت سمجھتے ہوئے اپنی عسکری حکمتِ عملی کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کات۔ اس فکری تبدییے کی قالدت ائرج چفظ مارشل ظہر احمد بابر سدھو نے کی جنہوں نے قائدِ اعظم محمد علی جناح کے وژن سیکنڈ ٹو ن کو عملی شکل دینے کا عزم کا ۔
مئی 2025 میں پاک بھارت عسکری کشیدگی نے جدید فضائی جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت کو نمایاں کیا۔ پاک فضائیہ نے نہ صرف دشمن کے رافیل، مگ-29 اور ایس یو-30 طیاروں کو نشانہ بنایا بلکہ اس سے بڑھ کر بھارتی فضائیہ کے کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کو مؤثر انداز میں متاثر کرتے ہوئے اس کی جارحانہ فضائی حکمتِ عملی کو شدید دباؤ میں لے آئی۔ اس معرکے نے یہ واضح کیا کہ جدید جنگ میں کامیابی صرف دشمن کے جنگی پلیٹ فارمز کو نقصان پہنچانے سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے فیصلہ سازی، مواصلاتی نظام اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو غیر مؤثر بنانا کہیں زیادہ فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اس تناظر میں یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ عددی برتری، اربوں کے دفاعی اخراجات اور جدید ترین جنگی طیارے بھی اس وقت اپنی افادیت کھو دیتے ہیں جب انہیں دُور اندیش قیادت ، مربوط ملٹی ڈومین وارفیئر نظام اور برق رفتار فیصلہ سازی کا سامنا ہو۔
ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے پاک فضائیہ کی کمان سنبھالنے کے بعد ایک ایسے وژن کی بنیاد رکھی جس کا مقصد صرف فضائی قوت میں اضافہ نہیں بلکہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا تھا۔سربراہ پاک فضائیہ کی قائدانہ بصیرت کا بنیادی محور یہ تھا کہ پاک فضائیہ کو صرف جدید پلیٹ فارمز سے لیس کرنا کافی نہیں بلکہ اسے ایک ایسی ملٹی ڈومین فورس میں تبدیل کرنا ضروری ہے جو جنگ کے ہر محاذ پر مربوط، ہم آہنگ اور مؤثر انداز میں کارروائی کر سکے۔
ائیر چیف کے ملٹی ڈومین وارفیئر نظریے کے مطابق فضائی جنگ محض جنگی طیاروں کی کارروائی تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ ایک ایسے جنگی ماحولیاتی نظام کی شکل اختیار کر لیتی ہے جہاں ہر پلیٹ فارم، ہر سینسر، مواصلاتی نظام، انٹیلی جنس سسٹم اور ہر فیصلہ ایک دوسرے سے مسلسل منسلک ہوتا ہے۔ اس تصور میں جنگی طیارہ خودمختار حثیت سے نہیں بلکہ ایک وسیع نیٹ ورک کا فعال جزو ہوتا ہے جس کی مؤثریت اس کی انفرادی صلاحیت سے زیادہ پورے نظام کے ساتھ اس کے ربط، معلومات کے بروقت تبادلے اور مشترکہ فیصلہ سازی پر منحصر ہوتی ہے۔
ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں ملٹی ڈومین وارفیئر کی بنیاد معلوماتی برتری پر رکھی گئی جہاں جنگی کامیابی کا انحصار بروقت معلومات کے حصول، ان کے درست تجزیے اور تیز رفتار فیصلہ سازی پر ہے۔ ان کے وژن کے مطابق جدید فضائی جنگ میں برتری اسی قوت کو حاصل ہوتی ہے جو سینسرز، مصنوعی ذہانت، ریئل ٹائم ڈیٹا فیوژن اور مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کو ایک مؤثر نیٹ ورک میں تبدیل کر کے دشمن سے پہلے صورتحال کا درست ادراک اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ یہی تصور آج پاک فضائیہ کی جدید آپریشنل حکمتِ عملی کی بنیاد ہے اور اسے مستقبل کے کثیرالجہتی جنگی ماحول کے لیے تیار کرتا ہے ۔
اسی مقصد کے لیے سربراہ پاک فضائیہ نے روایتی مرکزی کمانڈ کے ساتھ ساتھ مشن پر مبنی بااختیار اور تیز رفتار فیصلہ سازی کے کلچر کو فروغ دیا تاکہ ہر سطح پر آپریشنل صلاحیت اور ردِعمل کی رفتار میں اضافہ یقینی بنایا جا سکے۔
سربراہ پاک فضائیہ کی ملٹی ڈومین وارفیئر نظریے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ جنگ کے مختلف شعبوں کو الگ الگ میدانوں کے بجائے ایک مربوط اور باہم منسلک نظام کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس تصور میں فضائی کارروائیاں، سائبر آپریشنز، الیکٹرانک وارفیئر، خلائی نگرانی، بغیر پائلٹ کے فضائی نظام، زمینی فضائی دفاع اور مصنوعی ذہانت ایک ہی جنگی ڈھانچے کے باہم ارکان بن جاتے ہیں۔ اسی تناظر میں جنگی میدان میں ذہنی برتری اس نظریے کا بنیادی ستون ہے۔ اگر مخالف کو گمراہ کن معلومات موصول ہوں، اس کے سینسرز غلط معلومات فراہم کریں یا اس کی قیادت غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو جائے تو اس کی جنگی استعداد نمایاں طور پر متاثر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باوجود معلومات کی درستگی اور ان کا تحفظ مستقبل کی جنگ میں بنیادی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
ماضی میں نگرانی، تجزیہ، فیصلہ اور حملہ ایک ترتیب وار عمل تھا جبکہ جدید جنگ میں یہ تمام مراحل بیک وقت اور مسلسل جاری رہتے ہیں۔ اس کا مقصد صرف دشمن کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ اس کی فیصلہ سازی کی رفتار کو سست کرنا اور اپنی عملی رفتار برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ حالیہ پاک بھارت معرکے میں دنیا نے اس بات کا مشاہدہ کیا کہ دشمن کی عددی برتری کو دُور اندیش قیادت اور ملٹی ڈومین کلِ چین کے ذریعے زیر کیا جاسکتا ہے ۔ یہی تبدیلی عسکری تربیت کے طریقہ کار میں بھی واضح طور پر نظر آتی ہے۔
یہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی دُور اندیش بصیرت کا نتیجہ ہے جس نے چند سالوں میں ہی پاک فضائیہ کو صف اول کی فضائی افواج میں شامل کر دیا ہے۔ کمان سنبھالنے کے بعد پاک فضائیہ میں صرف ملٹی ڈومین وارفیئر نظریے کو وسعت نہیں ملی بلکہ نیشنل ائیر واسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک جیسے منصوبوں نے دنیا بھر میں پاکستان کی فضائی دفاعی صعنت کو بھی فروغ دیا ہے ۔
لا اِلٰہ اِلّا اللہ کے ابدی نصب العین پر لبیک کہتے ہوئے سربراہ پاک فضائیہ نے اس عزم کو عملی صورت دی ہے کہ وطنِ عزیز کی فضاؤں کا تحفظ ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ یہ محض ایک عسکری ذمہ داری نہیں بلکہ اُن لاکھوں شہداء اور غازیوں کے خون سے کیا گیا وہ عہد ہے جس کی بنیاد پر پاکستان آج ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر قائم ہے۔ یومِ آزادی ہمیں اس عہد کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ وطن کے دفاع میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ ائیر چیف کی قیادت میں جاری جدت طرازی، خود انحصاری اور جدید فضائی قوت کی تعمیر کا سفر اس امر کا مظہر ہے کہ پاک فضائیہ نہ صرف دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے بلکہ مقامی استعداد، جدید ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ برتری کے ذریعے عالمی فضائی افواج میں اپنا منفرد اور باوقار مقام مزید مستحکم کر رہی ہے۔ یہی وہ نظریہ ہے جو ایک محفوظ، مضبوط اور خودانحصار پاکستان کی ضمانت بنتا ہے۔

