اسلام آباد(الفجرآن لائن)اسپیکر قومی اسمبلی سردارایازصادق کے خط پر کارروائی کرتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)نے گھوٹکی کے رہائشی عبدالواجد کوجعلی تقرری نامے کے ذریعے خود کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا ملازم ظاہر کرنے الزام میں گرفتارکرکے تحقیقات شروع کر دی ہے۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے عوام سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ عوام کسی بھی ایسی دستاویزات کی متعلقہ حکام سے تصدیق کریں اور مشکوک سرگرمی پر قانونی اداروں کو اطلاع دیں

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے نام سے جاری کیے گئے جعلی تقرری/آفر لیٹر اور اس کے ذریعے قومی اسمبلی کی سرکاری حیثیت کے مبینہ غلط استعمال کے معاملے کا سخت نوٹس لیا ہے۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے علم میں آیا ہے کہ ضلع گھوٹکی سے تعلق رکھنے والا عبدالواجد نامی شخص مبینہ طور پر خود کو قومی اسمبلی میں گریڈ 17 کا ملازم ظاہر کرتے ہوئے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے نام سے منسوب جعلی تقرر نامہ، جس پر اسپیکر قومی اسمبلی کے جعلی دستخط بھی ثبت کیے گئے، استعمال کر رہا تھا۔
اطلاعات کے مطابق مذکورہ شخص نہ صرف سرکاری اہلکاروں اور پولیس کو اس جعلی حیثیت کے ذریعے گمراہ کر کے مبینہ طور پر غیر قانونی مراعات اور پروٹوکول حاصل کرتا رہا بلکہ عام شہریوں کو مختلف طریقوں سے ہراساں کرنے اور دبا میں رکھنے میں بھی ملوث رہا، جس کے نتیجے میں عوامی سطح پر بے چینی اور تشویش پائی گئی۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ واضح کرتا ہے کہ مذکورہ عبدالواجد نامی شخص کا قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے کسی بھی نوعیت کا کوئی تعلق نہیں ہے، اور نہ ہی مذکورہ شخص کی قومی اسمبلی میں کسی بھی ملازمت یا تقرری سے متعلق کوئی ریکارڈ موجود ہے۔ اس کی جانب سے استعمال کیا جانے والا لیٹر مکمل طور پر جعلی ہے اور اس کا قومی اسمبلی سے کوئی قانونی یا سرکاری تعلق نہیں ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی کی ہدایات پر قائم مقام سیکرٹری قومی اسمبلی نے وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)کے ڈائریکٹر جنرل اور انسپکٹر جنرل سندھ پولیس کو باضابطہ خطوط ارسال کیے، جن میں جعلی تقرر نامے کے اصل ذریعے کا سراغ لگانے، اس کی تیاری میں ملوث عناصر کی نشاندہی کرنے اور ذمہ داران کے خلاف مروجہ قوانین کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لانے کی درخواست کی گئی۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی شکایت پر ایف آئی اے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔

