پشاور( الفجرآن لائن) خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے حیات آباد میں معمول کے انسدادِ اسمگلنگ آپریشن کے دوران کسٹمز کی انٹیلی جنس اینڈ اسپیشل چیکنگ اسکواڈ پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔ فائرنگ کے نتیجے میں کسٹمز کے دو سپاہی زخمی ہو گئے ہیں۔ کلکٹریٹ آف کسٹمز (انفورسمنٹ) پشاور کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ فیز 3 حیات آباد کے جہاز چوک پر صبح تقریباً 10 بجے پیش آیا، جہاں کسٹمز کی ٹیم ایک معمول کی کارروائی میں مصروف تھی۔
رپورٹ کے مطابق انسپکٹر محمد اریب کی سربراہی میں کسٹمز اسکواڈ نے کارخانو مارکیٹ کی طرف سے آنے والے دو چنگچی رکشوں کو مشتبہ اسمگل شدہ کپڑا لے جانے کے شبہے میں روکا۔ جب اہلکار گاڑیوں کی تلاشی لے رہے تھے، تو اسی دوران ایک سفید رنگ کی سوزوکی سوئفٹ گاڑی میں پانچ افراد موقع پر پہنچے۔ ان افراد کی شناخت نور رحمان، عبداللہ رحمان، شکیل اور دو نامعلوم افراد کے نام سے ہوئی ہے۔ ان ملزمان نے کسٹمز اہلکاروں کو قانونی فرائض کی ادائیگی سے روکا اور ان کے ساتھ ہاتھا پائی شروع کر دی۔
تلخ کلامی اور جھگڑے کے دوران ملزم نور رحمان نے کسٹمز عملے پر پستول سے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں سپاہی محمد لقمان کے بائیں بازو پر کہنی کے پاس گولی لگی، جبکہ سپاہی فیصل شاہ کان کے نیچے معمولی زخمی ہوئے۔ واقعے کے بعد ملزمان کسٹمز اہلکاروں کی گرفت سے بچنے کے لیے اسمگل شدہ کپڑے سے لادے دونوں رکشوں سمیت موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
تھانہ حیات آباد، پشاور میں نامزد ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور پولیس حکام کی جانب سے مزید تفتیش جاری ہے۔ پولیس مفرور ملزمان کی گرفتاری اور فرار ہونے والی گاڑیوں سمیت اسمگل شدہ سامان کی برآمدگی کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔ دوسری جانب، پاکستان کسٹمز نے اپنے اہلکاروں پر ہونے والے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ تشدد کے ایسے بزدلانہ اقدامات کسٹمز حکام کو ملکی معیشت کے تحفظ اور اسمگلنگ کے خاتمے کی قانونی ۔ذمہ داریوں سے نہیں روک سکتے

