یوکرین (ویبڈیسک) صدر وولودیمیر زیلنسکی اور ملکی جنرل اسٹاف نے روس کے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے جس میں ماسکو نے مشرقی یوکرین کے انتہائی اہم اور سٹریٹجک شہر کوستیانتینیوکا پر مکمل قبضے کا دعویٰ کیا تھا۔ صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر اپنے بیان میں کریملن کے اس اعلان کو روس کا ایک اور سفید جھوٹ قرار دیا۔ انہوں نے روسی صدر کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ شہر واقعی روس کے کنٹرول میں آ چکا ہے، تو ولادیمیر پیوٹن جنگ کے خاتمے کے لیے وہاں آ کر ان سے آمنے سامنے ملاقات کریں۔
روس کے دفاعی کمانڈروں نے صدر ولادیمیر پیوٹن کو مطلع کیا تھا کہ ان کی افواج نے کوستیانتینیوکا پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جس کے ثبوت کے طور پر روسی ریاستی میڈیا اور وزارتِ دفاع نے تباہ شدہ عمارتوں پر روسی پرچم لہرانے کی ویڈیوز بھی جاری کیں۔ تاہم، یوکرینی جنرل اسٹاف نے صورتحال واضح کرتے ہوئے کہا کہ شہر اب بھی یوکرینی فورسز کے پاس ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایسٹرن گروپنگ کے 19ویں آرمی کور کے دستے شہر کے اندر اور بیرونی دفاعی خطوط پر موجود ہیں اور دشمن کے حملوں کو کامیابی سے ناکام بنا رہے ہیں۔ دوسری جانب کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے زیلنسکی کی فرنٹ لائن پر ملاقات کی تجویز کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ کوستیانتینیوکا اب روس کا حصہ بن چکا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق، کوستیانتینیوکا ایک بڑا صنعتی مرکز ہے جو ڈونیٹسک کے علاقے میں یوکرین کے "فورٹریس بیلٹ” (دفاعی پٹی) کے چار اہم شہروں میں سب سے جنوب میں واقع ہے۔ اگر روسی افواج اس شہر پر مکمل قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں، تو انہیں جنگی محاذ پر شمال کی طرف مزید پیش قدمی کے لیے ایک انتہائی اہم لاجسٹک اور عسکری گڑھ مل جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان اس شہر پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے شدید لڑائی اور بیانات کی جنگ جاری ہے

