لاہور(الفجر آن لائن) دبئی سے چھٹیاں گزارنے لاہور آنے والی ننھی پری رحمین فاطمہ واٹر پارک انتظامیہ کی غفلت کے باعث سوئمنگ پول میں نہاتے ہوئے جاں بحق ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق لاہور کے نجی واٹر پارک کے سوئمنگ پول میں نہانے کے دوران جاں بحق ہونے والی 9 سالہ بچی والدین کی شادی کے 9 سال بعد پیدا ہوئی اور ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی۔
رحمین فاطمہ چھٹیاں گزارنے چند دن پہلے دبئی سے لاہور آئی تھی۔رحمین مصری شاہ میں اپنے ننھیال آئی ہوئی تھی، 13 جولائی کو
خاندان کے دیگر بچوں کے ساتھ خوشی خوشی جلو موڑ پر واقع ایک نجی سوئمنگ پول نہانے گئی۔
رحمین فاطمہ دیگر بچوں کے ساتھ نہاتے نہاتے اچانک لاپتہ ہو گئی، ماموں وغیرہ نے سوئمنگ پول کی انتظامیہ کو آگاہ کیا، کافی تلاش و۔بسیار کے بعد اس کی لاش پول کی ڈرینیج کے تیسرے مین ہول سے ملی، ماں باپ اور خاندان کے دیگر افراد لاش دیکھ کر سکتے میں آگئے۔پولیس
نے اطلاع ملتے ہی پول کے مینجر سمیت 3 افراد کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کرلیا۔
بچی کے باپ محمد ندیم کا کہنا تھا کہ شادی کے 9 سال بعد منتوں مرادوں سے رحمین فاطمہ پیدا ہوئی اور یہ ان کی اکلوتی بیٹی تھی۔
پول کے اسٹاف نے بچوں کے نہانے کے دوران ڈرین کھول دیئے اور وہاں کوئی حفاظتی جنگلہ بھی نہیں تھا، پول میں بچوں کے نہانے کے دوران ڈرینیج ہول کھول دینا غفلت نہیں قتل ہے۔

