کوئٹہ محض ایک شہر نہیں بلکہ یہ پورے صوبے کا چہرہ ہے۔ کوئٹہ ایک بھرپور تاریخ، منفرد شہرکاری اور انوکھا قدرتی حسن سے نوازا شہر ہے لہٰذا ضروری ہے کہ تمام متعلقہ صوبائی وزراء کوئٹہ شہر کی ترقی، اسکی خوبصورتی اور تاریخی ساکھ کی بحالی پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔ یہ بات حوصلہ افزاء ہے کہ کوئٹہ شہر میں موجودہ حکومت کے دوران کئی قابلِ ذکر ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں تاہم کوئٹہ کے باسیوں کو تعلیم، پانی کی فراہمی اور صحت عامہ کے بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے ہمیں مزید مشترکہ کوششیں کرنی ہوگی۔ پائیدار ترقی تبھی برقرار رکھی جا سکتی ہے جب حکومتی ادارے اور عوام اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھائیں
کوئٹہ (الفجرآن لائن) گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ کوئٹہ محض صوبائی دارالحکومت نہیں ہے بلکہ یہ پورے صوبے کا چہرہ ہے۔ کوئٹہ ایک بھرپور تاریخ، منفرد شہرکاری اور انوکھا قدرتی حسن سے نوازا شہر ہے لہٰذا ضروری ہے کہ تمام متعلقہ صوبائی وزراء کوئٹہ شہر کی حقیقی ترقی، اسکی خوبصورتی اور تاریخی ساکھ کی بحالی پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔ یہ بات حوصلہ افزاء ہے کہ کوئٹہ شہر میں موجودہ حکومت کے دوران کئی قابلِ ذکر ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں تاہم کوئٹہ کے باسیوں کو معیاری تعلیم، صاف پانی کی فراہمی اور صحت عامہ کے بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے ہمیں مزید مشترکہ کوششیں کرنی ہوگی۔ یہ بات انہوں نے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماء مصلح الدین مینگل کی قیادت میں وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔
اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہر شہری کے بنیادی حقوق ہیں اور ایک صحت مند اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہیں۔ کوئٹہ شہر کی رونقیں بحال کرنے میں صوبائی وزراء، پارلیمانی سیکرٹریز اور ایم پی ایز علاؤہ دیگر متعلقہ محکمے حقیقی ترقی، خوشحالی اور بہبود میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ مربوط منصوبہ بندی، شفافیت، احتساب اور ترقیاتی منصوبوں کے موثر نفاذ کے ذریعے شہر کی خوشحالی میں دیرپا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ پائیدار ترقی تبھی برقرار رکھی جا سکتی ہے جب حکومتی ادارے اور عوام ایک ساتھ کام کریں۔ صفائی ستھرائی کو برقرار رکھنے اور عوامی بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کیلئے شہری ذمہ داری، ماحولیاتی آگاہی اور عوام کی شرکت شمولیت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئٹہ شہر مزید ترقی کرتا ہے تو اس سے پورے صوبے کا اعتماد مضبوط ہوگا۔ اگر کوئٹہ صاف ستھرا، خوبصورت اور منظم ہے تو یہ بلوچستان کے ہر ضلع پر مثبت انداز میں جھلکے گا۔ اس خیال کو حقیقت میں بدلنے کیلئے ہمیں اپنے اجتماعی عزم کی تجدید کرنے ہوگی۔

