کوئٹہ (الفجرآن لائن) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے کہا ہے کہ صوبے کے کشیدہ حالات شاہراہوں کی بندش اور بڑھتی ہوئی بد امنی کی صورتحال میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے 8 اگست کو شہداء کی یاد میں چمن میں جلسہ جبکہ 17 اگست کو کوئٹہ میں زیارت اور اگست کے مہینے میں ہونے والے واقعات کے شہداء سانحہ 8 اگست کے حوالے سے تعزیتی ریفرنس منعقد کیا جائے گا جس میں دھرنے میں شریک تمام سیاسی جماعتوں اور سانحہ زیارت کے شہداء کے لواحقین کو بھی دعوت دی جائے گی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوموار کو اپنے دیگر مرکزی اور صوبائی عہدیداروں (ر) سینیٹر داؤد خان اچکزئی، صوبائی جنرل سیکرٹری مابت کاکا، ثناء اللہ کاکڑ، عبید اللہ عابد، باری کاکڑ، جاوید کاکڑ، کے ہمراہ گزشتہ روز صوبائی مجلس عاملہ کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں سے متعلق میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر عثمان خان اچکزئی، حاجی نظام الدین کاکڑ، نذر پیر علی زئی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔
اصغر خانا چکزئی نے کہا کہ اجلاس میں ملک، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی مجموعی سیاسی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا بلوچستان اور پشتون علاقوں میں بڑھتی ہوئی بدامنی انتہائی تشویشناک ہے پہلے سیاسی کارکنوں کی لاشیں اٹھاتے تھے، اب ججز اور محافظ بھی محفوظ نہیں رہے سانحہ زیارت اور جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت نے کئی سوالات کھڑے کر دئیے ہیں جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر چیف جسٹس بلوچستان کی جانب سے ازخود سوموٹو نوٹس نہ لینا سوالیہ نشان ہے بلوچستان میں حالات منصوبہ بندی کے تحت خراب کئے جا رہے ہیں زیارت کے شہداء کے لواحقین کا دھرنا مستقبل کے تحفظ کے لیے تھا۔
جبکہ ایک بار پھر نواحی علاقے ہنہ اوڑک میں لاش کی حوالگی کے لیے دھرنا دیا گیا ہے، حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے سوات خون میں نہا رہا ہے جبکہ کوئٹہ سمیت بلوچستان میں دھرنے جاری ہیں بلوچستان کے متعدد اضلاع میں عملاً کرفیو کی صورتحال سے عوام دوچار ہیں اور لوگ خوف کی وجہ سے کراچی کا سفر کرنے سے بھی گریز کر رہے ہیں حکمرانوں کو جلتا ہوا بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں کشت و خون دکھائی کیوں نہیں دیتا؟اگر ایک پاکستان ہے تو شہریوں کے خون کی حفاظت کیوں نہیں ہو رہی؟ بارڈر بند ہونے سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار چھن گیا ہے بے روزگار نوجوانوں کو معمولی رقم کے عوض بندوق اٹھانے پر مجبور کیا جا رہا ہے ادارے اور سکیورٹی فورسز اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں ادا کرنے سے قاصر ہے اس لئے فتنہ الہندوستان خوارج صرف بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ہی کیوں نظر آتے ہیں؟
نئے صوبے بنانے کی باتیں کیوں کی جا رہی ہیں، حکومت وضاحت کرے گوادر کو بلوچستان کے دائرہ اختیار سے نکالنے کی باتیں باعث تشویش ہیں اسی طرح کراچی کو بھی نکال کر وفاق کے زیر تسلط لانے کا عمل غلط روایت کو جنم دے گا حکومت اپنے عزائم عوام کے سامنے واضح کرے، ابہام مزید نقصان کا باعث بنے گا زیارت دھرنا مذاکرات میں حکومت نے 80 فیصد مطالبات تسلیم کیے تھے بعد میں لایا گیا نیا ڈرافٹ بدنیتی پر مبنی تھا، جسے مسترد کر دیا گیاتھا بلوچ اور پشتون عوام کو آپس میں لڑانے اور دست گریبان کرنے کی وہر سازش ناکام بنائیں گے اتنے بڑے واقعات کے باوجود کسی حوالدار سمیت ذمہ دار شخص نے استعفیٰ نہیں دیا۔ انہوں نے کہاکہ لیویز فورس کے نظام کو برقرار رکھنا ضروری ہے ہم رہیں یا نہ رہیں، اپنی قوم کے حقوق اور تحفظ کا دفاع کرتے رہیں گے کانکنوں اور مزدوروں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے بلوچستان میں مزدوروں کے روزگار کے ذرائع بھی غیر محفوظ ہو چکے ہیں عوام کی مشکلات کے حل کیلئے ہر فورم پر آواز بلند کرتے رہیں گے بلوچستان کی معدنیات پر کسی کو قبضہ نہیں کرنے دیں گے امن اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جائے بلوچستان کے باشعور عوام کو سلام پیش کرتا ہوں جو مشکل حالات میں ثابت قدم ہیں ہجرت کا ماحول پیدا کرنا کسی صورت قبول نہیں، عوام کو بند گلی میں نہ دھکیلا جائے قوم کسی بھی مسلح کمانڈر کے پیچھے نہ چلے، سیاسی اور جمہوری راستہ اختیار کیا جائے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے بلوچستان کی خوشحالی کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہونا ہوگاپراکسی جنگوں نے ملک اور خصوصاً بلوچستان کو شدید نقصان پہنچایا ہے انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت یومِ شہدائے اگست کے سلسلے میں 8 اگست کو سرحدی شہر چمن میں بڑا جلسہ منعقد کرے گی اور شہداء کی یاد میں انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے 17 اگست کو کوئٹہ میں تعزیتی ریفرنس منعقد کیا جائے گا جس میں زیارت دھرنے میں شریک جماعتوں اور لواحقین شہداء کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن، انصاف اور آئین کی بالادستی کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکام بالا لوگوں کی بات سن کر مسائل کا ازسرنو جائزہ لینے کے روادار نہیں جس کی وجہ سے چیزیں خراب ہورہی ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومتی نمائندے بھی مطالبات کو جائز قرار دیتے ہیں لیکن حکام بالا کے سامنے بات کرنے سے گریز کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ صوبے پر فارم 47 کی جعلی اور بوگس حکومت مسلط کی گئی ہے جس کے باعث مسائل جوں کے توں ہے۔

