کوئٹہ(الفجرآن لائن) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے مختلف صوبوں کی جامعات میں اسکالرشپ پر اعلیٰ تعلیم کے لیے منتخب ہونے والے طلبہ و طالبات نے ملاقات کی، جس میں صوبے کے ترقیاتی منصوبوں، گورننس اور تعلیمی اصلاحات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ اور طلبہ کے درمیان ایک تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا۔وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے مختلف اضلاع سے غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کا میرٹ پر انتخاب ان کے روشن تعلیمی مستقبل کی ضمانت ہے۔ ملک کی اعلیٰ جامعات کے مختلف شعبوں میں بلوچستان کے نوجوانوں کی موجودگی باعثِ مسرت ہے۔
انہوں نے تعلیمی تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پنجاب بلوچستان کے طلبہ کو جامعات میں داخلے سمیت ٹیوشن اور ہاسٹل فیسوں میں معاونت فراہم کر رہی ہے، جس پر وہ اہلیانِ بلوچستان کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔سرفراز بگٹی نے دیگر صوبوں میں زیرِ تعلیم طلبہ کو ہدایت کی کہ وہ نظم و ضبط، محنت اور اپنے والدین کی توقعات کو اپنا شعار بنائیں۔ انہوں نے طلبہ کو آگاہ کیا کہ تصور اور حقائق میں واضح فرق ہوتا ہے؛ ریاست مخالف عناصر غیر متوازن ترقی کا نام لے کر نوجوانوں کی منفی ذہن سازی کی کوشش کرتے ہیں، اس لیے طلبہ ایسے عناصر سے چوکنا رہیں اور کسی بھی ریاست مخالف پروپیگنڈے یا تنظیم کا حصہ نہ بنیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ قائم رہنے کے لیے بنا ہے اور تاقیامت قائم رہے گا، اور اسے تقسیم کرنے کی سوچ رکھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ بلوچستان کے نوجوان جہاں بھی جائیں "پاکستانیت” کا پرچار کریں کیونکہ وہ ملک کے حقیقی سفیر ہیں۔

