اسلام آباد (الفجرآن لائن): آئینی عدالت نے وراثتی جائیداد سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پہلے فوت ہونے والے بھائی کے بچوں کو چچا کی جائیداد میں نمائندگی کے اصول کے تحت وراثتی حق حاصل نہیں ہوتا۔
عدالت نے واضح کیا کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 4 کا اطلاق صرف پہلے فوت ہونے والے بیٹے یا بیٹی کی اولاد تک محدود ہے، اسے پہلے فوت ہونے والے بھائی کے بچوں تک توسیع نہیں دی جا سکتی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ حنفی قانون وراثت کے تحت ورثا کی قانونی درجہ بندی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
محض خونی رشتہ داری کسی شخص کو وراثت کا حق دار نہیں بناتی بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ متعلقہ رشتہ دار کی قانونی حیثیت کیا ہے اور آیا وہ موجودہ شرعی حصے داروں کی موجودگی میں وراثت کا حق رکھتا ہے یا نہیں۔
فیصلے کے مطابق مسلم فیملی لاز آرڈیننس کی دفعہ 4 عام قانون وراثت سے ایک مخصوص قانونی انحراف ہے، جس کے تحت پہلے فوت ہونے والے بیٹے یا بیٹی کی اولاد کو ان کے والد یا والدہ کا متوقع حصہ مل سکتا ہے۔
تاہم اس قانونی رعایت کو قیاس یا مشابہت کی بنیاد پر پہلے فوت ہونے والے بھائی کی اولاد تک نہیں بڑھایا جا سکتا۔
آئینی عدالت نے قرار دیا کہ جو بھائی متوفی سے پہلے فوت ہو جائے، وہ خود متوفی کی جائیداد کا وارث نہیں بنتا۔
حنفی قانون وراثت کے تحت ایسے پہلے فوت ہونے والے بھائی کی اولاد کو نمائندگی کے اصول کے تحت اپنے والد کا حصہ نہیں ملتا۔
عدالت نے واضح کیا کہ درخواست گزاروں کا یہ دعویٰ برقرار نہیں رکھا جا سکتا کہ انہیں شرعی حصے دار قرار دے کر چچا کے ترکے میں حصہ دیا جائے۔
متعلقہ رشتے کی بنیاد پر ان کے لیے وراثت میں کوئی مقررہ حصہ مختص نہیں، جبکہ محض یہ حقیقت کہ ان کے والد متوفی کے بھائی تھے، انہیں باقی ماندہ ترکے کا وارث قرار دینے کے لیے کافی نہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار مرحوم کے پہلے فوت ہو چکے بھائی کے بیٹے تھے، جنہوں نے مسلم فیملی لاز آرڈیننس کی دفعہ 4 کے تحت وراثتی حق کا دعویٰ کیا تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ دفعہ 4 کو پہلے فوت ہونے والے بھائی کے بچوں تک تشبیہ یا قیاس کے ذریعے توسیع نہیں دی جا سکتی۔
آئینی عدالت نے مزید قرار دیا کہ مقدمہ میرٹ اور قانونی مدت، دونوں بنیادوں پر درخواست گزاروں کے خلاف ہے، جبکہ طویل تاخیر کے بعد حتمی عدالتی کارروائی دوبارہ کھولنے کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔
عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا 18 مارچ 2026 کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کوئی قانونی، دائرہ اختیار سے متعلق یا شواہد کی سنگین غلطی ثابت نہیں کر سکے۔

