اسکیم کے تحت ترسیلاتِ زر پر ہر سال 16ارب روپے کے انعامات دیئے جائینگے‘ اسکیم کا سب سے بڑا انعام 10 کروڑ پاکستانی روپے ہوگا
اسلام آباد (الفجر آن لائن)متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانی اب پاکستان رقم بھیجنے پر سالانہ اربوں روپے کے انعامات جیت سکتے ہیں۔
اس مقصد کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پاسبان ریمی ٹنس ریوارڈ اسکیم شروع کی ہے، جس کے تحت ہر سال مجموعی طور پر 16 ارب روپے کے نقد انعامات دیے جائیں گے۔
خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس اسکیم میں متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک سے پاکستان رقم بھیجنے والے افراد اور ان کے مستحقین کے لیے مجموعی انعامات کا 50 فیصد حصہ مختص کیا گیا ہے۔
اسکیم کا سب سے بڑا انعام 10 کروڑ پاکستانی روپے، یعنی تقریبا 13 لاکھ 20 ہزار درہم ہے۔اس اسکیم میں حصہ لینے کا طریقہ کار انتہائی آسان رکھا گیا ہے۔
اس اسکیم میں وہ مستحق افراد شامل ہوسکتے ہیں جن کے بینک اکانٹ میں مسلسل تین ماہ تک ہر ماہ کم از کم 100 امریکی ڈالر یا اس کے مساوی رقم بیرون ملک سے ترسیلات کی صورت میں موصول ہو۔
ہر اہل مہینے میں موصول ہونے والی ہر 100 ڈالر کی رقم پر ایک ڈیجیٹل انٹری نمبر یا ٹکٹ دیا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر کسی شخص کو ایک ماہ میں 100 ڈالر،
دوسرے ماہ 200 ڈالر اور تیسرے ماہ 300 ڈالر موصول ہوں تو اسے مجموعی طور پر 6 انٹریاں حاصل ہوں گی۔
یعنی جتنی زیادہ رقم بھیجی جائے گی قرعہ اندازی میں شامل ہونے کے مواقع بھی بڑھ جائیں گے۔اس اسکیم میں شامل ہونے کے لیے کسی قسم کی فیس نہیں ہوگی۔
یہ مکمل طور پر مفت ہے۔ بینک اہل افراد سے ٹکٹ خریدنے، اضافی رقم جمع کرانے یا اکانٹ میں کم از کم بیلنس رکھنے کا مطالبہ نہیں کریں گے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق ہر سہ ماہی یعنی تین ماہ کے بعد 2,521 نقد انعامات دیے جائیں گے، جن کی مجموعی مالیت 4 ارب روپے ہوگی۔ہر قرعہ اندازی میں ایک شخص کو 10 کروڑ روپے کا پہلا انعام ملے گا،
جبکہ 20 افراد کو ڈھائی کروڑ روپے فی کس کے حساب سے دوسرے انعامات دیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ 100 افراد کو ایک کروڑ روپے فی کس کے تیسرے انعامات دیے جائیں گے، جبکہ 2,400 افراد ایک ایک لاکھ روپے کے چوتھے انعامات جیت سکیں گے۔
اس طرح ایک سال کے دوران 10 ہزار سے زیادہ افراد کو مجموعی طور پر 16 ارب روپے کے انعامات دیے جائیں گے۔انعامات مختلف خطوں سے پاکستان بھیجی جانے والی ترسیلات کے حساب سے تقسیم کیے جائیں گے۔
خلیجی ممالک، جن میں متحدہ عرب امارات بھی شامل ہے، کے لیے مجموعی انعامات کا 50 فیصد حصہ رکھا گیا ہے۔
اس کے بعد برطانیہ کے لیے 15 فیصد، یورپ کے لیے 15 فیصد، شمالی امریکا کے لیے 10 فیصد جبکہ دیگر ممالک کے لیے 10 فیصد انعامات مختص کیے گئے ہیں۔
تاہم 10 کروڑ روپے کا پہلا انعام تمام خطوں سے پاکستان رقم بھیجنے والے اہل مستحقین کے لیے دستیاب ہوگا۔متحدہ عرب امارات میں 17 لاکھ سے زیادہ پاکستانی رہتے اور کام کرتے ہیں،
جس کی وجہ سے یہ کمیونٹی ملک کی بڑی تارکین وطن آبادیوں میں شمار ہوتی ہے۔
اس اسکیم کے تحت ہر تین ماہ بعد قرعہ اندازی کی جائے گی۔ پہلی قرعہ اندازی 15 جنوری 2027 کو ہوگی، جس میں یکم اکتوبر سے 31 دسمبر 2026 تک موصول ہونے والی اہل ترسیلات شامل ہوں گی۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق قرعہ اندازی مکمل طور پر ڈیجیٹل، محفوظ اور قابل جانچ عمل کے ذریعے کی جائے گی۔ نتائج اسکیم کی مخصوص ویب سائٹ کے علاوہ شریک بینکوں اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کی ویب سائٹس اور سرکاری سوشل میڈیا اکانٹس پر جاری کیے جائیں گے۔
اس اسکیم کا بنیادی مقصد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو رقم بھیجنے کے لیے غیر رسمی ذرائع کے بجائے بینکوں اور دیگر باقاعدہ مالیاتی ذرائع استعمال کرنے کی ترغیب دینا ہے، جبکہ ملک کی معیشت میں اوورسیز پاکستانیوں کے کردار کو بھی تسلیم کرنا ہے۔

