کوئٹہ(الفجرآن لائن) ضلع ڈیرہ بگٹی کے علاقے بیہہ لوٹی میں چیئرمین ضلع کونسل ڈیرہ بگٹی وڈیرہ غلام نبی شمبانی کے گھر پر مسلح افراد کی جانب سے حملے کے بعد سکیورٹی کی صورتحال کشیدہ ہوگئی
قبائلی ذرائع کے مطابق حملہ گزشتہ شب کیا گیا جس کے فوراً بعد علاقے میں شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا
جو کئی گھنٹوں تک جاری رہا
ذرائع کے مطابق حملے کے بعد وڈیرہ غلام نبی شمبانی کے بھائی وڈیرہ ہدایت شمبانی کی زیر نگرانی بگٹی امن فورس نے فوری طور پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کا بھرپور مقابلہ کیا
بیہہ لوٹی اور اس کے گرد و نواح میں رات بھر فائرنگ اور جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا
قبائلی ذرائع کا کہنا ہے کہ بگٹی امن فورس اور مسلح افراد کے درمیان طویل جھڑپ کے بعد حملہ آوروں نے فرار ہونے کی کوشش کی تاہم امن فورس کے جوانوں نے ان کا تعاقب کیا۔
تعاقب اور جوابی کارروائی کے دوران 16مسلح افراد ہلاک ہوگئے جبکہ متعدد دیگر کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں،
تاہم ان کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی جھڑپوں کے دوران بگٹی امن فورس کا بھی ایک جوان جاں بحق
جبکہ تین دیگر زخمی ہوگئے زخمی اہلکاروں کو وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے خصوصی احکامات پر ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد مزید علاج معالجے کے لیے حکومت بلوچستان کے ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کردیا گیا
قبائلی ذرائع کے مطابق بگٹی امن فورس کے جوانوں نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کے عزائم ناکام بنا دئیے
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اگر فوری ردعمل نہ دیا جاتا تو علاقے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا خدشہ تھا
واقعے کے بعد بیہہ لوٹی اور ملحقہ علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے جبکہ حالات پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
سرکاری سطح پر واقعے کی تفصیلات اور ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے آخری اطلاعات آنے تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

