حکومت کا لانگ مارچ ملتوی یا منسوخ کرنے پر اصرار، بانی پی ٹی آئی کی رہائی پر بات نہ کرنے کا مؤقف؛ مذاکرات میں کئی بار تلخ جملوں کا تبادلہکھلے دل کے ساتھ مذاکرات میں آئے ہیں،بیرسٹر گوہر۔۔۔۔ ہم بھی بات چیت کی کامیابی کے خواہاں ہیں لیکن تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے،رانا ثناء اللہ اسلام آباد پر چڑھائی کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔ لانگ مارچ، دھمکیاں اور اڈیالہ جیل پر حملے کی بات درست نہیں، حکومتی اراکینعدالتی معاملات پر رانا ثناء اللہ اور اپوزیشن لیڈر سینیٹ راجہ ناصر عباس کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ،پیپلز پارٹی کے اراکین زیادہ تر خاموش رہے
اسلام آباد (الفجرآن لائن) حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ ختم۔مذاکرات کا دوسرا دور ہفتہ کو ہوگا۔مذاکرات میں حکومت کی جانب سے لانگ مارچ فوری ختم کرنے کا مطالبہ پیش۔حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے مابین مذاکرات سپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں ہوئے ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور حالیہ واقعات کے اسباب پر بھی بریفنگ دی گئی۔
ذرائع کے مطابق حکومتی ٹیم نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے معاملے پر دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے معاملے پر بات نہیں ہو گی۔ حکومتی ٹیم نے واضح کیا کہ اسلام آباد پر چڑھائی کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔ لانگ مارچ، دھمکیاں اور اڈیالہ جیل پر حملے کی بات درست نہیں۔ حکومت نے کہا کہ لچک کا مظاہرہ صرف حکومت نے نہیں بلکہ اپوزیشن نے بھی کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ وہ کھلے دل کے ساتھ مذاکرات میں آئے ہیں۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ہم بھی بات چیت کی کامیابی کے خواہاں ہیں لیکن تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ اسد قیصر نے کہا کہ جو بھی معاملات ہوتے ہیں وہ ٹیبل پر بیٹھ کر ہی حل کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے موجودہ حکومت کو فارم 47 کی حکومت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت مذاکرات ہو رہے ہیں اس لیے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔ مذاکرات کے دوسرے دور میں عدالتی معاملات پر رانا ثنائللہ اور اپوزیشن لیڈر سینیٹ راجہ ناصر عباس کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ راجہ ناصر عباس نے عدالتی فیصلوں پر مکمل عمل نہ ہونے، بانی چیئرمین سے ملاقاتوں پر پابندی اور حکومتی اقدامات پر مایوسی کا اظہار کیا۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عدالتیں اپنا کام کر رہی ہیں اور لانگ مارچ سے متعلق عدالتی فیصلوں پر عمل کرائیں گے۔ سپیکر نے فریقین پر افہام و تفہیم سے آگے بڑھنے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔ مذاکرات میں کئی بار تحریک انصاف اور حکومتی ٹیم کے درمیان گرما گرمی ہوئی جبکہ پیپلز پارٹی کے اراکین زیادہ تر خاموش رہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے اپوزیشن سے باضابطہ طور پر لانگ مارچ ملتوی یا منسوخ کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ حکومت نے عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کی یقین دہانی بھی کرائی۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اپنے قائدین کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا۔ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر محسن نقوی اور مشیر رانا ثناء اللہ نے وزیر اعظم شہباز شریف سے رابطہ کر کے تحریک انصاف سے مذاکرات کی اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

