تحریر: عظمی ہرلینی
تاریخِ ہوا بازی میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جب عہدہ بے معنی ہو جاتا ہے، عمر اپنی اہمیت کھو دیتی ہے، اور ایک فیصلہ پوری زندگی پر حاوی ہو جاتا ہے۔ پاکستان ایئر فورس کی تاریخ میں ایسا ہی ایک لمحہ 20 اگست 1971ء کو آیا۔ یہ کسی بڑے فضائی معرکے کا شور نہیں تھا۔ نہ درجنوں جنگی طیاروں کا جھنڈ آسمان پر گرج رہا تھا، نہ کوئی وسیع فضائی کارروائی جاری تھی۔ یہ ایک مختصر سے T-33 تربیتی طیارے کے تنگ سے کاک پٹ میں جنم لینے والا وہ لمحہ تھا، جہاں صرف بیس سالہ پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید، ایک چھینا جانے والا طیارہ، بدلتے ہوئے چند لمحے اور سامنے آتی ہوئی سرحد موجود تھی۔
وقت بہت کم تھا۔
راستے بہت محدود تھے۔
اور فیصلہ ایسا تھا جس میں واپسی کی کوئی گنجائش نہ تھی۔
راشد منہاس شہید کے سامنے اپنی جان بچانے اور اپنے فرض کو بچانے میں سے ایک کا انتخاب تھا۔ انہوں نے پاکستان کو چنا۔ انہوں نے فرض کو چنا۔ انہوں نے آسمان کو سرنڈر کرنے سے انکار کر دیا۔
راشد منہاس 17 فروری 1951ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ وہ بھی ان ہزاروں نوجوانوں کی طرح تھے جن کے دل میں نیلے یونیفارم کا خواب اور آنکھوں میں پاکستان کے آسمانوں پر پرواز کرنے کی تمنا ہوتی ہے۔ وہ پی اے ایف اکیڈمی رسالپور پہنچے، جہاں صرف جہاز اڑانا نہیں سکھایا جاتا؛ وہاں انسان کو اپنے اعصاب پر قابو پانا، مشکل ترین لمحے میں درست فیصلہ کرنا اور اپنے کردار کو فرض کے تابع کرنا سکھایا جاتا ہے کیونکہ ایک اچھا پائلٹ صرف مشین نہیں اڑاتا، وہ اعتماد اٹھاتا ہے، وہ ذمہ داری اٹھاتا ہے اور جب وہ پاک فضائیہ کی وردی پہنتا ہے تو اس کے کندھوں پر صرف عہدہ نہیں ہوتا ایک پورے وطن کی امیدیں آ جاتی ہیں۔
1971ء میں راشد منہاس شہید کو جی ڈی پائلٹ کے طور پر پاک فضائیہ میں کمیشن ملا اور انہیں نمبر 2 اسکواڈرن ماڑی پور، موجودہ پی اے ایف بیس مسرور، میں Lockheed ٹی-33 جیٹ ٹرینر کی کنورژن ٹریننگ کے لیے تعینات کیا گیا۔ ان کا عملی فضائی کیریئر ابھی شروع ہی ہوا تھا۔ وہ ابھی جیٹ طیارہ اڑانے کے پیچیدہ فن کو سیکھ رہے تھے مگر ایک سبق وہ بہت پہلے سیکھ چکے تھے:
پی اے ایف کا طیارہ محض ایک مشین نہیں ہوتا۔
وہ قوم کی امانت ہوتا ہے۔
اس میں صرف ایندھن، آلات اور طاقت نہیں ہوتی؛ اس میں پاکستان کی دفاعی صلاحیت، قومی راز، ادارے کی ساکھ اور سب سے بڑھ کر سبز ہلالی پرچم کی حرمت شامل ہوتی ہے جو پائلٹ اس طیارے کو اڑاتا ہے، وہ دراصل وطن کی خودمختاری کا ایک حصہ اپنے ہاتھوں میں تھامتا ہے۔
وہ دن جب ایک معمول کی پرواز تاریخ بن گئی۔ 1971ء کا موسمِ گرما پاکستان کے لیے انتہائی کٹھن تھا۔ ملک ایک شدید داخلی اور بیرونی بحران سے گزر رہا تھا اور جنگ کے سائے گہرے ہوتے جا رہے تھے۔ ایسے ماحول میں ماڑی پور سے ایک معمول کی تربیتی پرواز شروع ہونے والی تھی۔ راشد منہاس شہید ٹی-33 طیارے پر اپنی دوسری سولو پرواز کی تیاری کر رہے تھے۔ انہیں شاید اندازہ بھی نہ تھا کہ یہ پرواز ان کی زندگی کی آخری پرواز بننے والی ہے۔ فلائٹ لیفٹیننٹ متیع الرحمان طیارے کے پچھلے کاک پٹ میں چالاکی سے سوار ہوا اور طیارہ فضا میں بلند ہو گیا۔ اور پھر اچانک اس کا رخ پاکستان کے بجائے بھارت کی طرف موڑ دیا گیا۔ ایک معمول کی تربیتی پرواز چند لمحوں میں ایک قومی بحران بن چکی تھی۔ دو نشستوں والے ایک جیٹ طیارے میں کنٹرول کے لیے کشمکش کا مطلب تھا کہ سوچنے، رکنے یا وقت حاصل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ نیچے زمین تیزی سے پیچھے چھوٹ رہی تھی۔ سامنے سرحد تھی اور درمیان میں ایک نوجوان پائلٹ کا فیصلہ۔ راشد منہاس نے خطرے کو فوراً بھانپ لیا- انہوں نے بیس کو ریڈیو پر اطلاع دی:
طیارہ ہائی جیک کیا جا رہا ہے۔
پیغام مختصر تھا۔
لیکن اس مختصر پیغام میں ایک پورا کردار بول رہا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ خطرہ صرف ان کی اپنی جان کو نہیں تھا، خطرہ پاکستان ایئر فورس کی ایک قیمتی مشین، اس کی صلاحیت، اس کے راز اور اس کی حرمت کو تھا۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں راشد منہاس شہید کی داستان محض بہادری کی داستان نہیں رہتی۔ یہ وفاداری کی داستان بن جاتی ہے۔یہ امانت کی حفاظت کی داستان بن جاتی ہے۔ یہ اس حقیقت کی داستان بن جاتی ہے کہ ایک سپاہی اپنی جان سے زیادہ ہمیشہ اپنے فرض کو عزیز رکھتا ہے۔
کاک پٹ میں جنگ اور طیارے کے کنٹرول کے لیے کشمکش شروع ہو چکی تھی۔ ٹی-33 طیارہ تیزی سے سرحد کی جانب بڑھ رہا تھا۔ راشد منہاس نوعمر تھے، تجربے میں کم تھے اور حالات ایسے تھے جن کا کوئی آسان جواب کسی تربیتی کتاب میں موجود نہیں تھا لیکن شاہین کی اصل آزمائش اس وقت نہیں ہوتی جب آسمان صاف ہو اور راستہ آسان۔ اصل آزمائش اس وقت ہوتی ہے جب چند سیکنڈ باقی ہوں، مقابلہ ناہموار ہو اور پسپائی زندگی کی ضمانت دکھائی دے۔ راشد منہاس شہید نے پسپائی قبول نہیں کی۔ انہوں نے آسمان کے کنٹرول سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا۔ وہ جانتے تھے کہ اگر طیارہ سرحد پار کر گیا تو صرف ایک جہاز پاکستان سے جدا نہیں ہوگا؛ ایک قومی امانت پامال ہوگی۔اس لمحے ان کے سامنے اپنی زندگی تھی اور دوسری طرف پاکستان کا وقار۔انہوں نے اپنی زندگی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے سبز ہلالی پرچم کو ہمیشہ بلند رکھنے کا فیصلہ کیا اور طیارے کا رخ زمین کی جانب کر دیا۔ ٹی-33 طیارہ سندھ کے علاقے ٹھٹھہ کے قریب گوٹھ خدا بخش کے نزدیک گر کر تباہ ہو گیا، مگر بھارتی سرحد تک نہ پہنچ سکا۔راشد منہاس شہید نے جامِ شہادت نوش کیا مگر ان کا عزم کامیاب رہا۔ طیارہ پاکستانی سرحد سے باہر نہیں گیا۔ دشمن کا مذموم منصوبہ ناکام ہو گیا اور ایک بیس سالہ نوجوان نے اپنی جان دے کر یہ ثابت کر دیا کہ وطن کی امانت کی حفاظت عمر، تجربے یا عہدے کی محتاج نہیں ہوتی۔ اس بہادر نوجوان سپاہی کا یہ فیصلہ پوری قوم کی تاریخ کا حصہ بن گیا۔ راشد منہاس نے اپنی زندگی قربان کر دی، مگر پاکستان کی حرمت پر آنچ تک نہ آنے دی۔ اس بے مثال شجاعت کے اعتراف میں پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید کو بعد از شہادت نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔ یہ صرف ان کی شہادت کا اعزاز نہیں تھا یہ اس کردار کا اعتراف تھا جو آخری لمحے تک اپنے فرض پر قائم رہا۔
بے خوفی، بغیر کسی تردد کے۔
وفاداری، بغیر کسی سمجھوتے کے۔
فرض، بغیر کسی ذاتی مفاد کے۔
راشد منہاس شہید پاکستان ایئر فورس کے واحد افسر ہیں جنہیں نشانِ حیدر سے نوازا گیا اور یہی بات ان کے مقام کو منفرد بنا دیتی ہے۔ پاک فضائیہ کی تاریخ میں بے شمار شاہینوں نے جنگوں میں اپنی بہادری کے جوہر دکھائے۔ بہت سے پائلٹ خطرناک ترین مشنوں پر گئے، دشمن کا سامنا کیا اور وطن کے لیے اپنی جانیں قربان کیں لیکن راشد منہاس شہید کی داستان ایک الگ سبق دیتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ کسی فضائیہ کی اصل طاقت صرف اس کے جدید طیارے، جدید ہتھیار، وسیع اڈے یا جدید ٹیکنالوجی نہیں ہوتی۔ اصل طاقت اس کے شاہینوں کے کردار میں ہوتی ہے۔ طیارے خریدے جا سکتے ہیں، ٹیکنالوجی حاصل کی جا سکتی ہے، اڈے تعمیر کیے جا سکتے ہیں لیکن حوصلہ درآمد نہیں کیا جا سکتا۔ وفاداری نصب نہیں کی جا سکتی اور وطن کو اپنی ذات پر ترجیح دینے کا جذبہ کسی مشین میں پروگرام نہیں کیا جا سکتا۔
یہ جذبہ ایمان، تربیت، کردار اور فرض شناسی سے جنم لیتا ہے۔ راشد منہاس شہید کے پاس یہی قوت ایمانی تھی ۔پاکستان نے اپنے اس بہادر شاہین کو کبھی فراموش نہیں کیا۔
ان کی یاد میں پی اے ایف بیس کامرہ کا نام تبدیل کرکے پی اے ایف بیس منہاس رکھا گیا لیکن کسی شہید کی اصل یادگار صرف کوئی عمارت، کوئی نام یا کوئی تختی نہیں ہوتی۔ اصل یادگار وہ مثال ہوتی ہے جو وہ اپنے بعد چھوڑ جاتا ہے۔ آج جب پی اے ایف اکیڈمی کا کوئی نوجوان کیڈٹ پہلی بار آسمان کی طرف دیکھتا ہے، جب کوئی نوجوان پائلٹ جیٹ طیارے کے کاک پٹ میں بیٹھ کر اپنے پروں پر اعتماد کرنا سیکھتا ہے، جب کوئی شاہین پاکستان کے آسمانوں کی حفاظت کا عہد کرتا ہے، تو راشد منہاس شہید کی قربانی اس عہد کے اندر کہیں نہ کہیں زندہ ہوتی ہے۔
وہ ایک اسکواڈرن کے کمانڈر نہیں بنے۔
انہوں نے کسی بڑے فضائی معرکے کی قیادت نہیں کی۔
انہیں طویل فوجی کیریئر گزارنے یا اعزازات کی ایک لمبی فہرست جمع کرنے کا موقع نہیں ملا۔
لیکن انہیں صرف ایک فیصلہ کن لمحہ ملا اور اس ایک لمحے میں انہوں نے وہ کر دکھایا جو بعض اوقات پوری پوری زندگیاں بھی نہیں کر پاتیں۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ سپاہی کی اصل پہچان اس کے عہدے سے نہیں، اس کے آخری فیصلے سے ہوتی ہے۔ راشد منہاس شہید کی آخری پرواز بہت مختصر تھی مگر اس کا اثر ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔ سندھ کے آسمانوں میں ایک نوجوان شاہین نے ایک ایسا فیصلہ کیا جو وقت کی حدود سے نکل کر تاریخ میں امر ہو گیا۔ اس کے سامنے اپنی جان تھی اور وطن تھا۔ اس نے اپنی جان وطن کے وقار پر قربان کر دی۔ اور یوں ایک بیس سالہ نوجوان صرف ایک پائلٹ نہیں رہا، وہ پوری قوم کے حوصلے کی علامت بن گیا۔ وہ وفاداری کی پہچان بن گیا۔ وہ فرض کی آخری حد بن گیا اور تاریخ نے اسے ہمیشہ کے لیے ایک ہی نام دیا: وہ شاہین جس نے سرنڈر نہیں کیا۔ پرواز ختم ہو گئی مگر اس لازوال قربانی کی گونج تا ابد باقی رہے گی۔

