تحریر:محمد ثاقب خان سدوزئی
— ایک ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید اور تشویش ناک بحران کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں پر مسلسل اور غیر معمولی دباؤ برقرار ہے، وزیراعظم پاکستان نے ایک بار پھر ملک کے عام شہریوں اور محنت کش طبقات کی فلاح و بہبود کو اپنی حکومت کا سب سے مرکزی، بنیادی اور مقدس ایجنڈا قرار دیتے ہوئے تاریخی ‘خصوصی ایندھن ریلیف اسکیم’ (PM Fuel Relief Scheme) کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ یہ بصیرت افروز اقدام عوامی رفاہ اور معاشی تحفظ کے لیے وزیراعظم کے غیر متزلزل اور محکم عزم کا ایک صریح اور واضح مظہر ہے، جس نے ثابت کر دیا ہے کہ موجودہ قیادت ہر مشکل گھڑی میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے اس عظیم الشان اسکیم کا خود ذاتی طور پر اعلان کیا جانا اور اس کا مسلسل اور براہِ راست جائزہ و نگرانی لینا اس تاریخی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ عوامی راحت و آرام اس حکومت کے لیے صرف ایک زبانی نعرہ یا سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک عملی، فوری اور سب سے اہم ترجیح ہے۔ یہ شاندار اقدام وزیراعظم کے اس وسیع تر اور باوقار وژن کی تسلسل کے ساتھ آبیاری کرتا ہے جس کا خواب ایک ہمدرد، احساس رکھنے والی اور عوام دوست ریاست کے قیام کی صورت میں دیکھا گیا ہے؛ جس نے بیرونی معاشی عوامل، عالمی منڈی کے تلاطم اور غیر ملکی دباؤ کے باعث عام شہریوں اور دیہاڑی داروں کے گھریلو بجٹ کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے فوری، دفاعی اور ٹھوس اقدامات عمل میں لائے ہیں۔
حکومت نے اس اسکیم کی افادیت کو ہر شہری تک بغیر کسی رکاوٹ کے پہنچانے اور سسٹم کو ہر قسم کی بے ضابطگی سے پاک رکھنے کے لیے اس کا اجراء تین نہایت منظم اور مربوط مراحل میں کیا۔ اسکیم کے پہلے مرحلے کے تحت پورے پاکستان کے شہریوں کے لیے موبائل ایس ایم ایس کے ذریعے یک مشت رجسٹریشن کا نظام کھول دیا گیا، جس میں شہری کو اپنے کوائف کا اندراج صرف ایک مرتبہ (One-Time) کروانا ہوتا ہے۔ اس کے بعد دوسرے مرحلے میں، اسلام آباد دارالحکومت کی حدود میں پیر اور منگل کی درمیانی شب، یعنی 14 اور 15 ستمبر 2026 سے ٹوکن کی منتقلی اور پٹرول پمپوں پر اس کے عملی استعمال کی سہولت کامیابی کے ساتھ فعال کر دی گئی۔ کامیابی کا یہ تسلسل برقرار رکھتے ہوئے تیسرے مرحلے میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب، یعنی 16 اور 17 ستمبر 2026 سے اس تاریخ ساز سہولت کا دائرہ کار پورے پاکستان کے تمام اضلاع اور صوبوں میں وسیع تر کر دیا گیا۔ اب اس شاندار اسکیم پر پورے ملک میں مکمل کامیابی، شفافیت اور بلا تعطل عمل درآمد کیا جا رہا ہے، جس کی بدولت شہری کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ سے آسانی کے ساتھ رجسٹریشن کروا سکتے ہیں اور جیسے ہی ان کے متعلقہ علاقے میں سہولت فعال ہوتی ہے، وہ خودکار اور ڈیجیٹل طریقے سے ٹوکن حاصل کرنے کے اہل ہو جاتے ہیں۔
وزیراعظم کی اس اسکیم کا بنیادی محور اور فلسفہ یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ معاشی ریلیف اور رعایت کا براہِ راست فائدہ معاشرے کے سب سے زیادہ مستحق، ضرورت مند اور معاشی طور پر کمزور طبقات تک پہنچے۔ اسی سوچ کے پیشِ نظر اسکیم کا دائرہ کار اور اہلیت کا معیار انتہائی شفاف طریقے سے وضع کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت وہ تمام موٹر سائیکلیں، رکشے اور چنگ چی اہل قرار دیے گئے ہیں جو یکم جنوری 2011 یا اس کے بعد کاغذی طور پر رجسٹرڈ ہوئے ہوں۔ اس کے علاوہ متوسط طبقات اور چھوٹے گاڑی مالکان کی مالی معاونت کے لیے 800 سی سی تک کی وہ تمام موٹر کاریں اس اسکیم کا حصہ ہیں جو یکم جنوری 2006 یا اس کے بعد رجسٹرڈ ہوئی ہوں۔ مستحقین کو ایندھن پر خطیر بچت دینے کے لیے حکومت نے فی لیٹر پٹرول پر 100 روپے کی براہِ راست رعایت مقرر کی ہے، جو پاکستان کی تاریخ میں پٹرولیم مصنوعات پر دی جانے والی سب سے بڑی اور مؤثر ترین رعایتوں میں سے ایک ہے۔
شہریوں کو ملنے والے مالی ریلیف، کوٹہ اور ٹوکنز کی میعاد کا نظام انتہائی منصفانہ اور جامع انداز میں تشکیل دیا گیا ہے۔ موٹر سائیکلوں اور تین پہیوں والی گاڑیوں (رکشہ اور چنگ چی) کے مالکان کے لیے ماہانہ 20 لیٹر پٹرول کی مقدار منظور کی گئی ہے، جسے چار ہفتہ وار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یعنی شہری کو ہر ہفتے 5 لیٹر پٹرول پر مشتمل ایک ٹوکن جاری کیا جائے گا، جس کی میعاد 7 دن ہوگی اور ہر ٹوکن کے استعمال پر شہری کو 500 روپے کی براہِ راست مالی رعایت حاصل ہوگی۔ دوسری جانب 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے ماہانہ 30 لیٹر پٹرول کا کوٹہ مختص کیا گیا ہے، جس کے تحت شہری کو ہر 10 دن میں 10 لیٹر پٹرول کا ایک ٹوکن موصول ہوگا اور اس ٹوکن کی میعاد 10 دن قائم رہے گی۔ کار مالکان کو ہر ٹوکن کی ریڈیمپشن پر 1,000 روپے کی بچت ملے گی، جس سے ان کے ماہانہ سفری اخراجات میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔
شہریوں کی سہولت کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس اسکیم کا تکنیکی طریقہ کار انتہائی آسان، تیز رفتار اور جدید بنایا گیا ہے تاکہ عام آدمی کو کسی بھی پیچیدہ دفتری کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ رجسٹریشن کے لیے طریقہ کار کچھ یوں ہے کہ شہری اپنے موبائل فون سے ایک خصوصی فارمیٹ میں 9771 پر ایس ایم ایس بھیجتے ہیں۔ فارمیٹ میں سب سے پہلے REG لکھ کر اسپیس دی جاتی ہے، اس کے بعد قومی شناختی کارڈ (CNIC) نمبر، پھر بغیر کسی اسپیس (خالی جگہ) کے گاڑی کا رجسٹریشن نمبر، اس کے بعد گاڑی جس صوبے میں رجسٹرڈ ہے اس کا پہلا حرف، اور آخر میں گاڑی کی کاغذی رجسٹریشن کی تاریخ درج کی جاتی ہے (REG CNIC RegistrationNumber ProvinceLetter RegistrationDate)۔ یاد رہے کہ یہ رجسٹریشن صرف ایک مرتبہ مکمل کرنی ہوتی ہے۔ رجسٹریشن کامیابی سے مکمل ہو جانے کے بعد، پٹرول پمپ پر جانے سے قبل شہری کو 9771 پر صرف TOK لکھ کر ایس ایم ایس ارسال کرنا ہوتا ہے، جس کے فوراً بعد سسٹم شہری کو جوابی ایس ایم ایس کے ذریعے ٹوکن نمبر، گاڑی کا رجسٹریشن نمبر، پٹرول کی رعایت شدہ مقدار اور ٹوکن کی معیادی تاریخ (Expiry Date) مہیا کر دیتا ہے۔ پٹرول پمپ پر پہنچ کر شہری اپنا یہ ڈیجیٹل ٹوکن پیش کرتا ہے جہاں پمپ آپریٹر اپنے پاس موجود مخصوص موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے ٹوکن کی لمحاتی تصدیق کرتا ہے اور فوراً رعایتی نرخ پر پٹرول فراہم کر دیتا ہے۔
اس عظیم الشان اور پیچیدہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی تشکیل اور اس کا ہموار نظام تیار کرنے میں وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن نے مرکزی اور کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ وزارت نے ایسا پائیدار اور خودکار نظام تشکیل دیا ہے جو پورے پاکستان سے آنے والی لاکھوں ایس ایم ایس ٹریفک اور ڈیٹا لوڈ کو بنا کسی التوا یا تکنیکی خرابی کے بااعتماد طریقے سے پروسیس کر سکتا ہے۔ قومی شناختی کارڈ کے ساتھ گاڑی کے ڈیٹا کی منتقلی اور تصدیق کے باعث دہری رجسٹریشن، غیر متعلقہ افراد کی مداخلت اور ممکنہ غلط استعمال یا بدعنوانی کی مکمل طور پر روک تھام ممکن ہو چکی ہے۔ اس انقلابی منصوبے کی مرحلہ وار، شفاف اور ہموار تکمیل کے لیے وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن نے متعدد قومی اور صوبائی اداروں کے ساتھ مل کر مربوط اور قریبی تعاون کی ایک بے مثال مثال قائم کی ہے، جن میں درج ذیل ادارے شامل ہیں:
* وزارتِ خزانہ
* پٹرولیم ڈویژن
* آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA)
* پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA)
* پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی (PDA)
* اسٹیٹ بینک آف پاکستان
* ضلعی انتظامیہ
* نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (NITB)
* نادرا (NADRA)
* تمام نجی و سرکاری ٹیلی کام آپریٹرز
تمام متعلقہ اداروں کے اس بے مثال باہمی اشتراک اور تعاون نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ اسکیم کی منتقلی میں کسی قسم کی انتظامی یا تکنیکی بے ضابطگی راہ نہ پا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہریوں کی آسانی اور کسی بھی ہنگامی مشکل یا الجھن کے فوری ازالے کے لیے وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے اندر ایک مخصوص اور جدید کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے جو چوبیس گھنٹے (24/7) بلا تعطل کام کر رہا ہے۔ اس کنٹرول روم میں تمام متعلقہ اداروں اور ڈویژنز کے بااختیار نمائندے ہر وقت موجود رہتے ہیں جو پورے ملک سے موصول ہونے والے ڈیجیٹل سگنلز اور سسٹم کا لمحہ بہ لمحہ (Second-by-Second) جائزہ لے رہے ہیں۔ موصول ہونے والی ہر شکایت اور مسئلے کا فوری اور آن دی اسپاٹ حل نکالا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی عام شہری کو پٹرول پمپ پر غیر ضروری انتظار یا زحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وزیراعظم پاکستان کے فوری، منصفانہ اور شفاف ریلیف کے عہد کو پورائے اکمل کے ساتھ نبھایا جا سکے۔
عام شہریوں، ڈرائیورز اور پٹرول پمپ مالکان کی سہولت کے لیے حکومت نے جدید ترین اور فعال رابطہ ذرائع جاری کیے ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
* عام شہریوں کے لیے ہیلپ لائن: 9771
* پٹرول پمپ مالکان کے لیے خصوصی ہیلپ لائن: 9772
* رسمی واٹس ایپ بوٹ (WhatsApp Bot): +923498041526
* سرکاری ویب سائٹ: pmfuelrelief.pk
حکومتِ پاکستان کی جانب سے تمام شہریوں کے لیے چند انتہائی اہم اور ضروری ہدایات پر عمل در آمد لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ ان کا ریلیف عمل بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے:
* جس موبائل سم (SIM) سے ایس ایم ایس بھیجا جا رہا ہے، وہ لازمی طور پر اسی قومی شناختی کارڈ (CNIC) پر رجسٹرڈ ہونی چاہیے جس پر گاڑی کی کاغذی ملکیت یا شناختی معلومات درج ہوں۔
* گاڑی کے رجسٹریشن نمبر میں کہیں بھی کوئی اسپیس (خالی جگہ) درج نہ کی جائے۔
* صوبے کا انتخاب کرتے وقت صرف وہی صوبہ درج کیا جائے جہاں گاڑی کاغذی طور پر رجسٹرڈ کروائی گئی ہو۔
وزیراعظم کی اس ایندھن ریلیف اسکیم نے نہ صرف پاکستان کے لاکھوں مستحق اور غریب گھرانوں کو معاشی ساہس اور ریلیف فراہم کیا ہے بلکہ یہ اقدام جدید ڈیجیٹل پاکستان، شفاف گورننس اور دردمندانہ قیادت کے ایک نایاب اور درخشان باب کے طور پر تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔

