مہنگا پیٹرول،عوامی مشکلات میں پی ایم کی فیول ریلیف اسکیم عوام کے لیے امید
تحریر: آسیہ خٹک
آج کے دور میں پٹرول صرف گاڑی چلانے کے لیے استعمال ہونے والی چیز نہیں رہا بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کا ایک ایسا حصہ بن چکا ہے جس کی قیمت بڑھتے ہی زندگی کی تقریباً ہر چیز متاثر ہونے لگتی ہے۔ پٹرول مہنگا ہو تو سفر مہنگا، سامان کی ترسیل مہنگی، کاروبار کے اخراجات زیادہ اور بالآخر عام آدمی کی جیب پر بوجھ بڑھ جاتا ہے۔خاص طور پر وہ شخص جو روزانہ موٹر سائیکل پر دفتر جاتا ہے، رکشہ چلاتا ہے، چھوٹا موٹا کاروبار کرتا ہے یا اپنی فیملی کے ضروری کاموں کے لیے گاڑی استعمال کرتا ہے، اس کے لیے پٹرول کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی ماہانہ بجٹ کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔موجودہ حالات میں جب عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور خطے کی کشیدہ صورتحال نے پاکستان سمیت کئی ممالک کی معیشت کو متاثر کیا ہے، حکومت کی جانب سے عام شہریوں کے لیے وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کا اعلان ایک ایسا قدم ہے جسے کم از کم اس پہلو سے ضرور دیکھا جانا چاہیے کہ مشکل وقت میں حکومت نے کم آمدنی والے اور متوسط طبقے کے لیے براہِ راست ریلیف دینے کی کوشش کی ہے۔
*اس اسکیم کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ، چنگ چی اور دیگر دو اور تین پہیہ گاڑیوں کے لیے ماہانہ 20 لیٹر پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف رکھا گیا ہے، جبکہ 800cc تک کی چھوٹی گاڑیوں کے لیے ماہانہ 30 لیٹر تک یہی ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔ یعنی دو اور تین پہیہ گاڑی رکھنے والا شہری ماہانہ 2 ہزار روپے تک جبکہ 800cc تک گاڑی رکھنے والا شہری ماہانہ 3 ہزار روپے تک ریلیف حاصل کر سکتا ہے*یہ رقم شاید کسی بہت بڑے سرمایہ دار کے لیے معمولی ہو، لیکن ایک ایسے گھرانے کے لیے جہاں ہر ماہ تنخواہ محدود ہو، بچوں کی فیس، بجلی کا بل، گھر کا راشن، ادویات اور دیگر ضروری اخراجات پہلے ہی آمدن کا بڑا حصہ لے جاتے ہوں، دو یا تین ہزار روپے بھی اہم ہوتے ہیں۔*حکومت نے اس اسکیم کے لیے تقریباً 75 ارب روپے مختص کیے ہیں* اور اسے براہِ راست مستحق صارفین تک پہنچانے کے لیے ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے فیول پاس سسٹم استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ ریلیف کی تقسیم میں شفافیت رہے اور ایک ہی گاڑی یا صارف کو ایک سے زیادہ مرتبہ فائدہ نہ مل سکے۔یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ حکومت نے اس پروگرام کو صرف اعلان تک محدود رکھنے کے بجائے ملک بھر میں نافذ کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔
16 اور 17 ستمبر کی درمیانی رات سے اس اسکیم کو اسلام آباد سے نکل کر ملک بھر میں نافذ کیا گیا، جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔*اس اسکیم میں حکومت نے رجسٹریشن کا عمل نسبتاً آسان رکھنے کی کوشش کی ہے۔شہری اپنے گھر بیٹھے SMS کے ذریعے رجسٹریشن کر سکتے ہیں۔اس کے لیے CNIC نمبر، گاڑی کا رجسٹریشن نمبر، صوبے کا پہلا حرف اور گاڑی کی رجسٹریشن کی تاریخ 9771 پر بھیجنی ہوتی ہے۔ رجسٹریشن کے بعد پٹرول لینے سے پہلے "TOK” لکھ کر اسی نمبر پر بھیجنے سے فیول ٹوکن حاصل کیا جا سکتا ہے**اس سکیم کی مثب بات یہ بھی ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر رجسٹریشن کا SMS مفت کر دیا گیا ہے تاکہ صرف اس وجہ سے کوئی مستحق شہری اسکیم سے محروم نہ رہ جائے کہ وہ SMS کا معمولی خرچ برداشت نہیں کر سکتا*لیکن کسی بھی حکومتی منصوبے کی اصل کامیابی اس کے اعلان میں نہیں بلکہ اس کے عملی نفاذ میں ہوتی ہے۔کاغذ پر ریلیف دینا نسبتاً آسان ہے، اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب ایک عام شہری پٹرول پمپ پر پہنچتا ہے۔ اسے رجسٹریشن میں دشواری نہ ہو، ٹوکن بننے میں مسئلہ نہ آئے، پٹرول پمپ پر اسے غیر ضروری انتظار نہ کرنا پڑے اور اس کا جائز حق اسے آسانی سے مل جائے، یہی وہ چیزیں ہیں جو کسی بھی ریلیف پروگرام کو عوامی سطح پر کامیاب یا ناکام بناتی ہیں۔حکومت نے اس حوالے سے بھی اقدامات کیے ہیں۔ وزیراعظم اور متعلقہ وزراء کی جانب سے عوامی آگاہی، رجسٹریشن میں سہولت اور پٹرول پمپس پر مناسب انتظامات کی ہدایات دی گئی ہیں۔ 17 ستمبر کو قومی سطح کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں بھی شکایات کے ازالے اور تکنیکی مدد کے لیے چوبیس گھنٹے کا نظام قائم کرنے کی ہدایت کی گئی، جبکہ حکومت نے کہا ہے کہ درست ٹوکن رکھنے والے شہری کو واپس نہیں بھیجا جانا چاہیے۔پٹرول پمپ مالکان کے لیے ادائیگی کے نظام کو بھی اس پروگرام کا اہم حصہ بنایا گیا ہے۔
وزارتِ پٹرولیم کے مطابق اسٹیٹ بینک نے پٹرولیم ڈیلرز کے کلیمز کی ادائیگی کے طریقہ کار پر بریفنگ دی اور کہا کہ متعلقہ دعوے 48 گھنٹوں کے اندر پراسیس کیے جائیں گے۔یہ سب اقدامات اس لیے اہم ہیں کیونکہ ماضی میں کئی اچھے منصوبے پیچیدہ طریقہ کار، معلومات کی کمی یا کمزور نگرانی کی وجہ سے وہ فائدہ نہیں دے سکے جس کی عوام کو توقع تھی۔میرے خیال میں اس اسکیم کو صرف پٹرول پر سبسڈی کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اسے موجودہ مشکل معاشی حالات میں ایک ٹارگٹڈ ریلیف کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت نے عمومی طور پر ہر گاڑی کو سبسڈی دینے کے بجائے چھوٹی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور رکشوں کو ہدف بنایا ہے، کیونکہ یہی وہ طبقہ ہے جس کے لیے پٹرول کے اخراجات ماہانہ بجٹ کا نمایاں حصہ بن سکتے ہیں۔خاص طور پر موٹر سائیکل ہمارے معاشرے کے کم اور متوسط آمدن والے طبقے کی بنیادی سواری ہے۔ ایک مزدور، استاد، چھوٹا دکاندار، سرکاری یا نجی ملازم، طالب علم یا کسی دفتر میں کام کرنے والا شخص روزانہ کئی کلومیٹر موٹر سائیکل پر سفر کرتا ہے۔ اس کے لیے پٹرول میں 100 روپے فی لیٹر کا فرق صرف ایک عدد نہیں بلکہ مہینے کے آخر میں بچنے والی رقم کا فرق ہے۔اسی طرح رکشہ اور چنگ چی چلانے والوں کے لیے پٹرول ان کے روزگار کا حصہ ہے۔ اگر ایندھن مہنگا ہو جائے تو اس کا اثر صرف ڈرائیور پر نہیں پڑتا بلکہ سواری کے کرائے اور عام شہری کے سفر کے اخراجات پر بھی پڑتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اگر موجودہ فیول ریلیف اسکیم شفاف انداز میں، بغیر سیاسی یا انتظامی رکاوٹ کے اور حقیقی مستحقین تک پہنچتی ہے تو یہ موجودہ مہنگائی کے ماحول میں بہت سے گھرانوں کے لیے کچھ نہ کچھ مالی آسانی پیدا کر سکتی ہے۔تاہم حکومت کے لیے ایک اور اہم بات بھی ضروری ہے کہ اس پروگرام کی مسلسل نگرانی کی جائے۔ اگر کہیں رجسٹریشن میں مسئلہ ہے تو اسے فوری حل کیا جائے، اگر کسی پٹرول پمپ پر شہریوں کو ریلیف دینے میں رکاوٹ ہے تو کارروائی کی جائے، اور اگر کسی جگہ غلط استعمال ہو رہا ہے تو اسے بھی روکا جائے۔عوام کو بھی چاہیے کہ وہ اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے درست معلومات حاصل کریں اور کسی غیر متعلقہ شخص کو اپنا CNIC یا گاڑی کی معلومات دینے سے گریز کریں۔ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سرکاری ذرائع ہی سے معلومات حاصل کرنا زیادہ محفوظ راستہ ہے۔
ہم اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ حکومتیں صرف اعلانات کرتی ہیں، عملی ریلیف نہیں دیتیں۔ اس لیے جب کوئی ایسا پروگرام سامنے آتا ہے جس کا مقصد براہِ راست عام شہری کے اخراجات کم کرنا ہو تو اس کے اچھے پہلو کو تسلیم کرنا بھی ضروری ہے، ساتھ ہی اس کی خامیوں کی نشاندہی بھی ہونی چاہیے تاکہ پروگرام مزید بہتر بنایا جا سکے۔آج پاکستان کو صرف بڑے بڑے معاشی منصوبوں کی نہیں بلکہ ایسے عملی اقدامات کی بھی ضرورت ہے جن کا اثر عام آدمی کی روزمرہ زندگی میں محسوس ہو۔ایک غریب یا متوسط گھرانے کے لیے ریلیف کا مطلب یہ نہیں کہ اسے کروڑوں روپے مل جائیں۔ کبھی کبھی مہینے کے چند ہزار روپے کی بچت بھی اس کے لیے بہت بڑی سہولت بن جاتی ہے۔وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم بھی اسی تناظر میں ایک اہم کوشش ہے۔ اب اصل ذمہ داری حکومت، متعلقہ اداروں، پٹرول پمپ مالکان اور انتظامیہ کی ہے کہ اس کوشش کو کاغذی کارروائی نہ بننے دیا جائے اور جس شخص کے لیے یہ ریلیف دیا گیا ہے، اسے واقعی اس کا فائدہ ملے۔عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اگر حکومت کسی مشکل وقت میں ان کے سفر اور روزگار کے اخراجات کم کرنے کی کوشش کرتی ہے تو یہ ایک مثبت قدم ہے۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اس ریلیف کا سفر اعلان سے عوام کی جیب تک واقعی آسان، شفاف اور بلا رکاوٹ ہو۔کیونکہ آخرکار کسی بھی حکومتی پالیسی کی اصل کامیابی فائلوں میں نہیں، عام آدمی کی زندگی میں نظر آتی ہے۔

