، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور اسلام آباد کی کمپنیوں کی نجکاری کی جانب اہم پیش رفت
بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے اراضی اثاثے حکومتی پاور ہولڈنگ کمپنی کو منتقل ہوں گے، تنظیم نو کا منصوبہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں جمع کرانے کی منظوری
اسلام آباد (الفجرآن لائن) وفاقی حکومت نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کی تنظیم نو کے منصوبے کی منظوری دے دی۔کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری، مشیر نجکاری محمد علی سمیت متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی تنظیم نو اور نجکاری کے عمل کو تیز کرنے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کی تنظیم نو کے منصوبے کی منظوری دی گئی۔ منظور شدہ منصوبے کے تحت مذکورہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے اراضی اثاثے ایک حکومتی پاور ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کیے جائیں گے، جبکہ تنظیم نو کے قانونی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے منصوبہ انتظامی بندوبست کی باقاعدہ اسکیم کے تحت سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں جمع کرایا جائے گا۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے متعلقہ حکام کو منصوبے پر تیزی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے عمل کو مؤثر انداز میں آگے بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات اور نجکاری کے اقدامات کا مقصد بجلی کی تقسیم کے نظام میں بہتری لانا، کمپنیوں کے نقصانات کم کرنا اور صارفین کو بہتر خدمات فراہم کرنا ہے۔اسحاق ڈار نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی تنظیم نو اور نجکاری کے ذریعے بجلی کے شعبے میں کارکردگی بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ اداروں کے مالی نقصانات میں کمی لائی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تنظیم نو کے تمام مراحل مقررہ طریقہ کار کے مطابق تیزی سے مکمل کیے جائیں۔اجلاس میں حکام کی جانب سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی تنظیم نو، اثاثوں کی منتقلی اور آئندہ نجکاری کے عمل سے متعلق امور پر بریفنگ بھی دی گئی۔ کابینہ کمیٹی کی جانب سے منصوبے کی منظوری کو بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے

