اسلام آباد(الفجر آن لائن)وزیراعظم کے مشیربرائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ تحریک انصاف کے ساتھ دوبارہ مذاکرات ہوسکتے ہیں،
دہشت گردی کے واقعات میں ملوث لوگ افغانستان سے ٹریننگ لے کر آتے ہیں وہیں سے کنٹرول ہوتے ہیں،دہشت گردوں کے ٹریننگ کیمپ میں اسرائیلی بھی آکر ان کو ٹیکنالوجی کی ٹریننگ دے رہے ہیں،
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاق کی پالیسی پر عمل کرنا صوبائی حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے، دہشت گردی کے خلاف پالیسی بنانے کا وفاقی حکومت کو آئینی اختیار حاصل ہے۔
ایک انٹرویو میں رانا ثنا اللہ نے کہا عسکری قیادت، سیاسی قیادت اور وفاقی حکومت کا یہ فیصلہ ہے کہ دہشتگردی کی جنگ جو پاکستان پر مسلط کردی گئی ہے اسے حتمی نتیجے تک پہنچایا جائے،
دہشت گردوں کے ٹریننگ کیمپ میں اسرائیل کے لوگ بھی آکر ان کو ٹیکنالوجی کی ٹریننگ دے رہے ہیں یہ ڈرونز اس سے پہلے تو افغان طالبان نے نہیں چلائے تھے۔
خیبرپختونخوا کی حکومت کو دہشتگردی کے خلاف اس پالیسی اور آپریشن میں کردار نبھانا ہوگا۔
رانا ثنا اللہ نے کہا اپوزیشن کے ساتھ رابطے تو پہلے بھی تھے اب بھی رابطے ہیں،
ہم اپوزیشن کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مثبت پیش رفت کی یقین دہانی کے بعد دوبارہ مذاکرات کیلئے بیٹھ سکتے ہیں۔
ر رانا ثنااللہ نے کہا یہ کہتے ہیں ان سے مذاکرات کریں ان کے ساتھ مذاکرات کرتے 15 سال گزر گئے۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ قطر، سعودی عرب، ترکیے اور چین نے مذاکرات کیے وہ کسی بات پر آ ہی نہیں رہے،دہشت گردی کے واقعات میں ملوث لوگ افغانستان سے ٹریننگ لے کر آتے ہیں وہیں سے کنٹرول ہوتے ہیں۔،
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت میں پالیسی بنائی کہ دہشت گردوں کو عام معافی دے کر واپس لانا ہے، پی ٹی آئی دور میں اپوزیشن سے مشاورت نہیں صرف بریفنگ دی گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت کی اس پالیسی کی سابق فاٹا کے لوگوں نے مخالفت کی تھی فاٹا کے لوگوں نے کہا کہ یہ لوگ واپس آکر وہی کچھ کریں گے جو پہلے کرتے رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کی حکومت کا موقف تھا کہ دہشت گرد ہتھیار رکھ دیں گے اور قانون کے مطابق زندگی گزاریں گے۔بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے اسٹریٹیجک فیصلے اوپن فورم پر نہیں ہوتے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مسائل،عمران خان کی صحت اور ملاقاتوں سے متعلق ساری چیزیں طے ہوگئی تھیں، عمران خان سے ملاقات اور ذاتی معالجین پر تو ہم متفق ہوگئے تھے ہم نے کہا کہ ذاتی معالجین کے لئے عدالت چلے جائیں
انہوں نے کہا کہ فائنل ڈرافٹ کے بعد جب یہ کمرے میں گئے تو وہاں ان کا اسٹے کچھ لمبا ہوا پی ٹی آئی والے کمرے سے باہر آئے تو کہا کہ یہ پالیسی مشاورت نہیں،
اتفاق رائے سے ہو،ان کا کہنا تھا کہ یہ تو وفاقی حکومت کا اختیار ہے کہ بیرونی جارحیت پر پالیسی بنائے،
اس پالیسی پر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم متفق ہوئے تو پالیسی بنائیں گے پالیسی سے متعلق پی ٹی آئی کا موقف آئینی اور قانونی طور پرغلط ہے۔
دہشت گردی کے خلاف پالیسی پر مثبت پیشرفت کی یقین دہانی پر دوبارہ بیٹھا جاسکتا ہے

