کوئٹہ (الفجرآن لائن) زیارت اور مانگی ڈیم حملے کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ عدالتی کمیشن کی اہم سماعت منعقد ہوئی، جس میں سوشل میڈیا پر گمراہ کن پراپیگنڈا کرنے والے عناصر کے خلاف بڑی کارروائی کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ کمیشن کے سربراہ جسٹس محمد عامر نواز رانا نے کھلی عدالت میں کیس کی سماعت کی، جہاں متعلقہ حکام کی جانب سے کیس میں ہونے والی حالیہ پیش رفت پر تفصیلی رپورٹ جمع کرائی گئی۔
سماعت کے دوران نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے کمیشن کے سامنے اپنی کارروائی کی رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مانگی ڈیم حملے کے حوالے سے انٹرنیٹ پر جعلی، من گھڑت اور گمراہ کن خبریں پھیلانے والے 50 سے زائد سوشل میڈیا پیجز کو بلاک کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ ایسے تمام اکاؤنٹس کے خلاف سخت قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور ملک دشمن یا امن و امان کو ثبوتاژ کرنے والی ڈیجیٹل سرگرمیوں کی مسلسل اور سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔
سماعت کے دوران پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کے ڈائریکٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ قانون کے مطابق سوشل میڈیا پیجز یا کسی بھی ویب سائٹ کو بلاک کرنے کا حتمی اختیار پی ٹی اے کے ویب انالسز ڈویژن (WAD) اسلام آباد کے پاس ہے۔ اس بیان پر تحقیقاتی کمیشن نے کارروائی کا دائرہ بڑھاتے ہوئے ڈائریکٹر ویب انالسز ڈویژن اسلام آباد کو آئندہ سماعت پر ویڈیو لنک کے ذریعے ذاتی طور پر طلب کر لیا ہے۔
کمیشن نے حکم دیا ہے کہ ڈائریکٹر WAD اگلی پیشی پر سوشل میڈیا مانیٹرنگ اور بلاکنگ کے طریقہ کار کے حوالے سے کمیشن کو تفصیلی بریفنگ دیں۔ بعد ازاں، مانگی ڈیم تحقیقاتی کمیشن نے کیس کی مزید

