اسلام آباد(الفجرآن لائن)پرنٹنگ پیپر کی عدم فراہمی پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان کو 44کروڑ روپے سے زائد نقصان کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان کے پرنٹنگ پریس لاہور میں 75 فیصد ایڈوانس کے باوجود 564 پرنٹنگ جابز 5 سال سے زائد عرصے سے زیرالتواء ہیں،
جن کی وجہ سے 440.22 ملین روپے کا نقصان سامنے آیا ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جابز کی تاخیر سے لاگت روز بروز بڑھ رہی ہے اور منافع نقصان میں تبدیل ہو رہا ہے۔
آڈٹ دستاویزات کے مطابق پرنٹنگ کارپوریشن لاہور نے 564 جابز کے لیے 75 فیصد ایڈوانس وصول کر لیا گیا تھا لیکن 2023 تک یہ جابز مکمل نہیں ہو سکیں۔
متعلقہ ڈیپارٹمنٹس کے آرڈرز کی میٹریل دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے کام رک گیا۔ انتظامیہ نے ہیڈ آفس سے پرنٹنگ پیپر کی فراہمی کا مطالبہ کیا مگر کوئی جواب نہیں ملا۔
آڈٹ نے 23 اکتوبر 2023 کو معاملہ انتظامیہ کے نوٹس میں لایا مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
ڈی اے سی میٹنگ بھی رپورٹ فائنل ہونے تک نہ ہو سکی۔ آڈٹ نے غیر اطمینان بخش کارکردگی کی وضاحت، تفصیلی انکوائری اور بزنس پلان مضبوط کرنے کی سفارش کی۔
دستاویزات کے مطابق ڈی اے سی کی مختلف سفارشات میں پی سی پی نے بتایا کہ ابتدا میں 9 جابز مکمل ہوئیں۔
بعد میں 192 جابز پینڈنگ بتائیں جن میں سے 179 نیشنل اسمبلی اور سینیٹ کی بحث کی پرنٹنگ سے متعلق تھیں جن پر کوئی ایڈوانس نہیں ملا۔ 7 مارچ 2025 کی ڈی اے سی میں بتایا گیا کہ اصل پینڈنگ جابز 201 ہیں جن میں سے 32 مکمل ہو چکے ہیں۔
باقی 169 جابز کمپوزنگ، پرنٹنگ، بائنڈنگ وغیرہ کے مختلف مراحل میں ہیں۔26 جون 2025 کے جواب میں پی سی پی نے دعوی کیا کہ 201 میں سے 83 جابز مکمل ہو گئی ہیں
اور ان کے ریکارڈ تصدیق کے لیے تیار ہیں۔ ڈی اے سی نے 31 جولائی 2025 تک تمام پینڈنگ جابز مکمل کرنے کی ہدایت کی

