اسلام آباد(الفجرآن لائن)جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں طوفانی بارش کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ انتظامیہ کی جانب سے آج تعلیمی اداروں میں تعطیل کا اعلان کردیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بارش رات 3 بج کر 20 منٹ پر شروع ہوئی جو صبح 8 بجے تھمی، شدید بارش کے باعث سڑکیں اور علاقے تالاب کا منظر پیش کرنے لگے اور کئی مقامات پر گھٹنوں گھٹنوں تک پانی جمع ہوگیا۔
پیر ودھائی سے ملحقہ صفدرآباد، گلی لوہاراں، فوجی کالونی میں گھر پانی سے بھر گئے، یونین کونسل 4 اور 5 کے علاقے بھی ڈوب گئے، اعوان کالونی میں گاڑیاں پانی میں ڈوب گئیں، راولپنڈی کا ماڈل راجہ بازار بھی ڈوب گیا۔
بارشوں کے باعث نالہ لئی میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 27 فٹ کو چھو گئی، گوالمنڈی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 21 فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث قریبی آبادی کے رہائشیوں کو انخلا کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
بارش کے باعث ایکسپریس وے پر بدترین ٹریفک جام ہونے سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔واسا حکام کے مطابق سب سے زیادہ بارش شمس آباد میں 197 اور گولڑہ میں 157 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، نیوکٹاریاں 184، پی ایم ڈی 146 اور پیرودھائی میں 86 ملی میٹر بارش ہوئی۔
ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کیپٹن ریٹائرڈ ندیم ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ راولپنڈی میں 200 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوچکی ہے، پچھلے 3 سال میں سب سے زیادہ بارش آج ریکارڈ ہوئی، بارش کا سب سے بڑا اثر نالہ لئی پر پڑ رہا ہے، نالہ لئی میں گرنے والے نالے بیک فلو کر رہے ہیں جس کی وجہ سے پانی باہر آ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا امید کر رہے ہیں ایک گھنٹے میں صورتحال نارمل ہونا شروع ہو جائے گی، راولپنڈی نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند ہونے سے ملحقہ نالوں کا پانی آبادیوں میں داخل ہوا، نالہ لئی میں پانی کی سطح کم ہوگئی تونشیبی علاقوں سے پانی نکلنا شروع ہوجائیگا،
آبادیوں کے انخلا کی ٹیمیں نشیبی علاقوں میں روانہ کردی ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ اس وقت کٹاریاں میں پانی کی سطح اپنے بلند ترین مقام پر ہے، اس کا اثر گوالمنڈی پر آرہا ہے، پاک فوج، ریسکیو 1122، پیرا اور تمام ادارے موجود ہیں،
ابھی تک ہمیں 2 ایمرجنسی کالز موصول ہوئی ہیں، جن علاقوں میں پانی جمع ہوا وہاں معمول ہے، پانی اکھٹا ہو جاتا ہے، ٹرپل ون بریگیڈ ہمارے ساتھ رابطے میں ہے،
پاک فوج کو نالہ لئی گوالمنڈی کے اطراف کے علاقوں میں تعینات کر دیا گیا ہے، تمام ادارے ضلعی انتظامیہ کی مدد کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال نمنٹنے کیلئے تیار ہیں،
ضلعی انتظامیہ کیساتھ مل کرنشیبی علاقوں سے نکاسی آب آپریشن جاری ہے۔ڈی سی راولپنڈی نے کہا کہ نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک نشان سے تجاوز کر گئی ہے،
نالہ لئی کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 29 فٹ تک بلند ہو چکی ہے جبکہ گوالمنڈی پل کے مقام پر پانی کی سطح 24 فٹ بلند ہے، شہریوں کی حفاظت کے پیش نظر نالہ لئی کیارد گرد آبادیوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان سٹی کے علاقوں کے لیے کیا گیا ہے، عام شاہراہوں پر بھی پانی ہے، بچوں کو اسکول آنے جانے میں مسئلہ ہوسکتا تھا۔
دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)نے مزید بارشوں کی پیشگوئی کر دی ہے، 48 گھنٹوں کے دوران ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں بارشیں متوقع ہیں، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور پنجاب کے مختلف شہروں میں بارشوں کا امکان ہے۔
بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث دریاؤں کے بہا ؤمیں اضافے اور ند نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔

