کوئٹہ(الفجرآن لائن) چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیرصدارت ایک اہم کمشنرز و ڈپٹی کمشنرز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں صوبے بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں، پرائس کنٹرول، انتظامی امور اور میونسپل سروسز کا جامع جائزہ لیا گیا۔ کانفرنس میں تمام اضلاع کے اعلیٰ انتظامی حکام نے شرکت کی اور اپنے اپنے علاقوں کی کارکردگی رپورٹ پیش کیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری شکیل قادر خان نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی کا اصل معیار عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور ان کے مسائل کا فوری حل ہے۔ انہوں نے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ ترقیاتی منصوبوں کے معیار، رفتار اور عوامی افادیت کی باقاعدہ نگرانی کو یقینی بنائیں تاکہ سرکاری فنڈز کا درست استعمال ہو اور عوام ان منصوبوں سے بروقت مستفید ہو سکیں۔کانفرنس کے دوران صوبے میں غیرقانونی طور پر مقیم تارکین وطن کی واپسی کے حوالے سے اہم بریفنگ بھی دی گئی۔ حکام کو بتایا گیا کہ صوبائی انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کے مشترکہ اقدامات کی بدولت بلوچستان سے اب تک 11 لاکھ سے زائد غیرقانونی تارکین وطن کی بحفاظت واپسی ممکن بنائی جا چکی ہے۔
چیف سیکرٹری نے غیرقانونی ناکوں کے فوری خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی اقدامات کے دوران عام شہریوں کی آمدورفت میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔پرائس کنٹرول اور عوامی ریلیف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ صوبے میں ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔ انہوں نے انتظامیہ کو حکم دیا کہ ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے۔ شکیل قادر خان کا کہنا تھا کہ کھلی کچہریاں عوام اور انتظامیہ کے درمیان براہِ راست رابطے کا مؤثر ذریعہ ہیں، اس لیے افسران عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے باقاعدگی سے کھلی کچہریاں لگائیں۔چیف سیکرٹری بلوچستان نے میونسپل سروسز کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کچرے کی بروقت صفائی، سیوریج اور نکاسیٔ آب کے نظام پر فوری اقدامات اٹھانے کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے صوبائی محصولات (رینیو) میں اضافے کے لیے دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کو یقینی بنانے کی بھی تاکید کی تاکہ صوبے کو مالی طور پر مستحکم کیا جا سکے۔کیا آپ اس خبر میں کسی مخصوص ضلع کی

