اسلام آباد(الفجرآن لائن)بلوچستان کے وسیع اور دور دراز علاقوں میں سائلین اور وکلا کو سہولت فراہم کرنے کے لیے صوبے بھر میں ای۔کورٹس کا نظام قائم کر دیا گیا ہے
جس کے تحت اب مقدمات کی سماعت ویڈیو لنک کے ذریعے بھی ممکن ہوگی۔
رجسٹرار بلوچستان ہائی کورٹ نے منگل کے روزسپریم کورٹ آف پاکستان کی برانچ رجسٹری کوئٹہ میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیی آفریدی،
سپریم کورٹ کے جج جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل کو اس اقدام سے متعلق بریفنگ دی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ای۔کورٹس کا مقصد وکلا اور سائلین کو اپنے اپنے اضلاع سے رہ کر کیسز کی پیروی کی سہولت دینا ہے۔
بلوچستان کے جغرافیائی پھیلا، اضلاع اور کوئٹہ کے درمیان طویل فاصلوں، دشوار گزار راستوں اور بعض علاقوں میں امن و امان کی صورتحال کے پیشِ نظر یہ اقدام سائلین اور وکلا کو مہنگے اور طویل سفر سے بچائے گا۔
اس سے کیسز کی بروقت سماعت بھی ممکن ہوگی اور نظامِ انصاف مزید قابلِ رسائی، مثر اور جوابدہ بنے گا۔
اس موقع پر بلوچستان کے مختلف اضلاع ژوب، زیارت، گوادر، چمن، تربت، نصیر آباد اور مکران کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے ججز اور قانونی برادری کے ارکان نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ چمن، خانوزئی، مسلم باغ، پشین، ژوب، ڈکی، قلعہ سیف اللہ، ڈیرہ اللہ یار، ڈیرہ مراد جمالی، گوادر، رکھنی، بارکھان، کوہلو، خضدار، تربت، سبی، لورالائی اور کوئٹہ سمیت مختلف اضلاع میں ضروری ویڈیو لنک کا سامان پہلے ہی نصب کیا جا چکا ہے۔
زیارت، ہرنائی، مستونگ، کلات، بیلہ، ہب، نوشکی، خاران، دالبندین، پنجگور، سراب، بسیمہ، قلعہ عبداللہ، دھادر، ڈیرہ بگٹی اور موسی خیل سمیت دیگر مقامات پر سامان کی تنصیب کا عمل جاری ہے۔
نقل و حمل اور سڑکوں کی بندش کے باعث سامان کی ترسیل میں کچھ تاخیر ہوئی تاہم توقع ہے کہ رواں ہفتے یہ عمل مکمل کر لیا جائے گا۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کو جغرافیائی رکاوٹوں پر قابو پانے اور انصاف کو عوام کے قریب لانے کے لیے مثر طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے

