اسلام آباد (الفجرآن لائن)جرمن پارلیمنٹ کے رکن اور اقتصادی تعاون و ترقی کی کمیٹی کے ممبر کرسٹوف شمڈ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح کے جرمن وفد نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد پاکستان اور جرمنی کے مابین ترقیاتی تعاون کا جائزہ لینا اور سماجی تحفظ کے شعبے میں اس شراکت داری کے عملی اثرات کا خود مشاہدہ کرنا تھا۔ دورے کے دوران وفد کو بی آئی ایس پی کے تحت چلنے والے مختلف فلاحی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اس اہم دورے کا بنیادی مرکز جرمنی کے تعاون سے فراہم کردہ موبائل رجسٹریشن گاڑیاں تھیں۔ جرمنی نے نیشنل سوشو اکنامک رجسٹری کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے بی آئی ایس پی کو ۳۲ موبائل گاڑیاں فراہم کی ہیں۔ ان گاڑیوں کی مدد سے اب تک بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ کے انتہائی دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں ۱.۳۷ ملین (۱۳ لاکھ ۷۰ ہزار) سے زائد افراد کی رجسٹریشن کی جا چکی ہے، جس سے غریب خاندانوں تک امداد کی رسائی ممکن ہوئی ہے۔بی آئی ایس پی کے ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر عسمت نواز نے جرمن سفارت خانے کے ڈپٹی ہیڈ آف ڈویلپمنٹ کوآپریشن ڈاکٹر مینوئل ونکنباخ اور جی آئی زیڈ پاکستان کے اعلیٰ حکام سمیت جرمن وفد کا استقبال کیا۔ اس موقع پر ڈی جی این ایس ای آر ڈاکٹر عاصم اعجاز نے وفد کو بے نظیر کفالت، بے نظیر نشوونما، بے نظیر تعلیمی وظائف اور ڈیجیٹل والٹ جیسے بڑے اقدامات پر بریفنگ دی۔ جرمن وفد نے بی آئی ایس پی کی جانب سے ڈیجیٹلائزیشن، موبائل آؤٹ ریچ اور جدید طرزِ خدمت کی تعریف کی اور پاکستان میں سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

