اسلام آباد (الفجرآن لائن) ایف بی آر کے گوداموں سے کروڑوں روپے مالیت کے سگریٹ غائب ہونے کا بڑا اسکینڈل سامنے آگیا۔ ایف آئی اے اینٹی کرپشن سیل نے مبینہ طور پر 25 کروڑ روپے کے سرکاری نقصان کے معاملے پر مقدمہ درج کرلیا ہے، جس میں ایف بی آر کے پانچ افسران و اہلکاروں سمیت ایک نجی کمپنی کے تین افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
مقدمہ ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد سفیر احمد کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق مقدمے میں ایف بی آر کے انسپکٹرز کامران اور نوید، ڈرائیور، سیکیورٹی گارڈ اور نائب قاصد سمیت دیگر اہلکار نامزد ہیں، جبکہ نجی کمپنی کے دو ڈائریکٹرز اور ایک منیجر کو بھی ملزم قرار دیا گیا ہے۔
نامزد ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق فروری 2024 میں صوابی سے سگریٹ کے 1262 کارٹن پکڑے گئے تھے،
جنہیں ایف بی آر کے مردان ویئر ہاؤس منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں انسپکٹرز کامران اور نوید نے 1202 کارٹن مردان سے صوابی منتقل کیے۔
مقدمے کے مطابق صوابی گودام پہنچنے پر ٹرکوں سے 908 کارٹن سگریٹ غائب پائے گئے۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ تقریباً تین ماہ بعد انہی میں سے 907 کارٹن دوبارہ برآمد کیے جانے کا دعویٰ سامنے آیا۔
ایف آئی آر کے مطابق تقریباً ایک سال بعد ہونے والی انسپکشن میں 907 کارٹن سمیت مجموعی طور پر 2828 کارٹن سگریٹ غائب پائے گئے۔
ایف آئی اے کے مطابق ابتدائی تفتیش میں سگریٹ کی مبینہ چوری میں ایف بی آر کے انسپکٹرز اور دیگر عملے کے براہ راست ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزمان نے مبینہ ملی بھگت سے سرکاری خزانے کو 25 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا۔
ایف آئی آر کے مطابق گوداموں میں جان بوجھ کر لاگ بکس بھی تیار نہیں کی گئیں جبکہ نگرانی کیلئے سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب نہیں کیے گئے۔
ایف آئی اے اینٹی کرپشن سیل نے واقعے کی مزید تفتیش شروع کردی ہے جبکہ نامزد ملزمان کی گرفتاری کیلئے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں

