نیویارک (الفجرآن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ذہن میں صرف ایک بات ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔
انہوں نے کہا کہ تہران سے معاہدہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم ایران نے انکار کردیا، اب انہیں ایک بڑے فیصلے کا سامنا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کیا جائے یا اس کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے مذاکرات سے انکار کیا اور ان کے بقول ایرانی حکومت خطے میں طویل عرصے سے دہشت گردی اور عدم استحکام کو فروغ دیتی رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران مشرق وسطیٰ میں پہلے بدمعاشی کرتا تھا لیکن اب ایسا نہیں کرسکتا۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے ذریعے اس کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ٹرمپ نے ایران کے خلاف آپریشن مڈنائٹ ہیمر اور آپریشن ایپک فیوری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی جوہری تنصیبات، بحریہ، ریڈار نظام، میزائل اور ڈرون بنانے کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ کے جہاز تباہ کیے گئے اور ایرانی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔
امریکی صدر نے اس سے قبل بھی ان کارروائیوں کو ایران کی جوہری
صلاحیت اور فوجی طاقت کو محدود کرنے کے لیے ضروری قرار دیا ہے امریکی صدر نے کہا کہ ایران کسی صورت ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔
ان کے مطابق ایران کی حکومت دنیا میں دہشت گردی کو فروغ دیتی رہی ہے اور اس کا موجودہ رویہ اس کی طاقت نہیں بلکہ کمزوری کی علامت ہے۔
ٹرمپ نے ایرانی معیشت کو بھی شدید مشکلات کا شکار قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہاں مہنگائی 300 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اعداد و شمار صدر ٹرمپ کے دعوے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
آبنائے ہرمز کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحریہ نے وہاں سے تیل کی ترسیل جاری رکھی ہوئی ہے اور امریکی فوج روزانہ درجنوں بحری جہازوں کو گزرنے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے اس سے قبل بھی دعویٰ کیا تھا کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت کو تحفظ فراہم کر رہی ہیں۔ امریکی صدر نے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ ختم کرانے میں کردار ادا کیا۔
انہوں نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی بھی تعریف کی اور کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں بتایا کہ اس اقدام سے کروڑوں لوگوں کی زندگیاں بچیں۔
ٹرمپ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا شکریہ بھی ادا کیا اور عالمی سطح نے شہباز شریف کو عظیم لیڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم بہترین شخص ہیں

