رواں مالی سال ترسیلات زر تقریباً 45 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، گورنر اسٹیٹ بینک،پریس کانفرنس
کراچی (الفجرآن لائن) اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس اضافے کا اعلان کردیا۔گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرح سود میں 50 بیسز پوائٹس اضافے کا اعلان کیا، جس کے بعد شرح سود 11.5 فیصد سے بڑھ کر 12 فیصد ہوگئی۔
قبل ازیں گورنر اسٹیٹ بینک کی زیرصدارت مانیٹری کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں شرح سود میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہاکہ ملک میں مہنگائی کی شرح 7.1 فیصد رہی ہے، جبکہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
یہ تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے اثرات ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا مانیٹری پالیسی کمیٹی کے 10 میں سے 9 ارکان نے پالیسی ریٹ میں اضافے کے حق میں ووٹ دیا۔
گورنر نے بتایا کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام تک مہنگائی تقریباً 7 فیصد رہنے کی توقع تھی، تاہم موجودہ صورتحال کے باعث اس ہدف کے حصول میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔
بنیادی مہنگائی میں بہتری آئی ہے، لیکن مستقبل میں اس کے ثانوی اثرات سامنے آنے کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی اجناس اور تیل کی قیمتوں کے باعث بیرونی کھاتے پر دباؤ بڑھا ہے۔
کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مجموعی ملکی پیداوار کے صفر سے ایک فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کو 10.9 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں۔
ترسیلات زر 44 ارب ڈالر سے بڑھ کر 45 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ برآمدات 32.5 سے 33 ارب ڈالر رہنے کا امکان ہے۔ دوسری جانب درآمدی بل 71 ارب ڈالر سے تجاوز کرسکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال کی آخری سہ ماہی میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد رہی۔
رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح 3.5 سے 4.5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا زرعی شعبے کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے، پہلی سہ ماہی میں گنے، چاول اور مکئی کی پیداوار بڑھی، تاہم کپاس کی پیداوار میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
توقع ہے کہ رواں مالی سال زرعی شعبہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ رواں مالی سال کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر تقریباً 45 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے

