خواتین، بچوں اور نوجوانوں کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنا شرعاً حرام قرار، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف افواجِ پاکستان اور سلامتی کے اداروں کی جدوجہد کی حمایت کا اعلان
کوئٹہ (الفجر آن لائن): قومی پیغامِ امن کمیٹی، حکومتِ پاکستان اور صوبائی پیغامِ امن کمیٹی، حکومتِ بلوچستان کے زیرِ اہتمام جامعہ سلفیہ دعوۃ الحق میں تمام مکاتبِ فکر کے علماء و مشائخ اور مختلف مذاہب کے قائدین کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین پاکستان علماء کونسل اور کوآرڈینیٹر قومی پیغامِ امن کمیٹی حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کی۔ اجلاس میں خودکش حملوں، دہشت گردی، انتہا پسندی اور بے گناہ انسانوں کے قتل کے خلاف متفقہ فتویٰ کی توثیق کرتے ہوئے قومی بیانیے پیغامِ پاکستان کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا۔
اجلاس میں مولانا علی محمد ابو تراب، ڈاکٹر آصف میر، مفتی یوسف کشمیری، مولانا سید سمیع اللہ آغا، مولانا قاسم حقانی، علامہ نصر اللہ حسینی، مفتی محمد جان قاسمی، مولانا حزب اللہ عثمانی، مولانا سمیع اللہ اعوان، مولانا عبدالرحمن، مولانا عبداللہ حقانی، مفتی عمر فاروق، مولانا عبدالرحمان سلفی، پاسٹر سائمن بشیر، سردار جسبیر سنگھ سمیت دیگر علماء، مشائخ اور مختلف مذاہب کے قائدین نے شرکت کی۔
خودکش حملے حرام، بے گناہوں کا قتل تمام مذاہب کی تعلیمات کے منافی قرار
اجلاس کے متفقہ اعلامیے میں کہا گیا کہ خودکش حملے حرام، بے گناہ انسانوں کا قتل ناجائز اور دہشت گردی اسلام سمیت تمام مذاہب کی بنیادی تعلیمات کے منافی ہے۔ کسی فرد، گروہ یا تنظیم کو مذہب، مسلک یا کسی نظریے کے نام پر قتل و غارت گری، ریاست کے خلاف مسلح کارروائیوں یا قانون کو ہاتھ میں لینے کا حق حاصل نہیں۔
اعلامیے میں معصوم خواتین، بچوں، نوجوانوں اور طلبہ و طالبات کو دہشت گردی اور خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ عمل شرعاً حرام، اخلاقی طور پر قابلِ مذمت اور انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے۔ نوجوان نسل کو گمراہ کرکے دہشت گردی کا ایندھن بنانے والے عناصر انسانی جانوں اور پاکستان کے مستقبل کے دشمن ہیں۔
افواجِ پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کی جدوجہد کی حمایت
متفقہ اعلامیے میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف افواجِ پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کی جدوجہد کی مکمل تائید و حمایت کا اعلان کیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق پوری قوم دہشت گردی کے خاتمے، ملکی سلامتی اور قومی استحکام کے لیے افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
علماء و مشائخ اور مذہبی قائدین نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی، استحکام اور عوام کے جان و مال کا تحفظ سب کی مشترکہ قومی ذمہ داری ہے۔ بلوچستان کا امن پاکستان کا امن ہے اور صوبے میں امن و استحکام کا قیام اولین ترجیح ہے۔ کسی کو مذہب یا مسلک کی آڑ میں پاکستان، بالخصوص بلوچستان کے امن کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
بین المسالک ہم آہنگی اور نوجوان نسل کے تحفظ پر زور
اعلامیے میں بلوچستان میں بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی رواداری، قومی یکجہتی اور قیامِ امن کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ اس کے ساتھ مساجد و مدارس کو درپیش مسائل کے حل اور حکومت و متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا۔
شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نوجوان نسل کو انتہا پسندانہ نظریات، نفرت انگیز پروپیگنڈے اور دہشت گرد تنظیموں کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے علماء و مشائخ، مذہبی قائدین، اساتذہ اور سماجی شخصیات مشترکہ کردار ادا کریں گی۔ مساجد، مدارس، تعلیمی اداروں اور مذہبی و سماجی مراکز کے ذریعے امن، رواداری، اتحاد اور قومی یکجہتی کا پیغام عام کیا جائے گا۔
متفقہ اعلامیے میں نوجوانوں اور طلبہ و طالبات سے اپیل کی گئی کہ وہ دہشت گرد اور انتہا پسند عناصر کے گمراہ کن نعروں، جھوٹے وعدوں اور منفی پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں اور کسی صورت ایسے عناصر کے ہاتھوں استعمال نہ ہوں۔
والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے ذمہ داران سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ بچوں کی سرگرمیوں، صحبت اور سوشل میڈیا رابطوں کے حوالے سے محتاط رہیں، ان کے ساتھ اعتماد اور محبت پر مبنی تعلق برقرار رکھیں اور انہیں دہشت گرد عناصر کے مذموم عزائم سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
اعلامیے میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کی سلامتی، انسانی جان کا احترام، دہشت گردی کا خاتمہ اور قومی یکجہتی پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ نوجوان نسل کو ملک کا مستقبل قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اسے دہشت گردی کا ایندھن نہیں بننے دیا جائے گا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی وحدتِ امت اور عالمی امن کے لیے کوششوں کو خراجِ تحسین
اجلاس میں ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی عالمِ اسلام کے اتحاد، وحدتِ امت، علاقائی استحکام اور عالمی امن کے لیے کوششوں اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
قرارداد میں امریکہ اور ایران کے درمیان امن و مذاکرات کے فروغ، سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں بہتری اور 26 اکتوبر کو تہران میں سعودی عرب، پاکستان، ترکیہ اور ایران کے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے انعقاد کے لیے فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کو قابلِ قدر قرار دیا گیا۔
قرارداد کے مطابق یہ کوششیں خطے میں کشیدگی کم کرنے، مسلم ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے اور عالمی امن کے فروغ کے لیے اہم ہیں۔ شرکاء نے ان خدمات کو پاکستان کے لیے باعثِ افتخار اور امتِ مسلمہ کے لیے قابلِ قدر قرار دیا۔
سیاسی و مذہبی جماعتوں سے مثبت سفارتی کوششوں کی حمایت کی اپیل
متفقہ قرارداد میں پاکستان کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں سے اپیل کی گئی کہ وہ قومی مفاد، عالمِ اسلام کے اتحاد اور عالمی امن کے لیے کی جانے والی مثبت سفارتی کوششوں کی تائید و حمایت کریں۔
قرارداد میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان میں امن و استحکام، عالمِ اسلام کے اتحاد، مسلم ممالک کے درمیان مفاہمت اور عالمی امن کے لیے ہر مثبت اور تعمیری کوشش کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔

