بیٹریس کیول نے 1993 میں نیویارک کے پلازا ہوٹل میں مبینہ واقعے کا دعویٰ کیا، امریکی ایوانِ نمائندگان کی عدالتی کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان کی رپورٹ میں الزامات کا ذکر
واشنگٹن (الفجر آن لائن): سابق مس سوئٹزرلینڈ بیٹریس کیول نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے 1993 میں انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ وائٹ ہاؤس نے رپورٹ میں شامل الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ڈیموکریٹس کی جانب سے سیاسی مقاصد کے لیے کی جانے والی کوشش قرار دیا ہے۔
فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق امریکی ایوانِ نمائندگان کی عدالتی کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان کی جانب سے جاری 53 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں صدر ٹرمپ کے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے تعلقات اور ان کے خلاف جنسی بدسلوکی کے الزامات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بیٹریس کیول کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان کی ملاقات ڈونلڈ ٹرمپ سے نیویارک کے پلازا ہوٹل میں ایک مقابلۂ حسن کے موقع پر ہوئی تھی۔ کیول کے مطابق ٹرمپ نے انہیں ویزا دلوانے اور نیویارک یونیورسٹی میں داخلہ کروانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ ان کے بقول بعد ازاں جیفری ایپسٹین نے بھی ان سے ملاقات کی اور خود کو ٹرمپ کا قریبی دوست بتایا۔
کیول نے الزام عائد کیا کہ بعد میں ٹرمپ کے ایک نمائندے نے انہیں ہوٹل کے کمرے میں ملاقات کے لیے بلایا، جہاں ان کے بقول ٹرمپ نے انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
رپورٹ میں کیول کے بیان کے مطابق واقعے کے بعد ٹرمپ نے ویزے اور یونیورسٹی میں داخلے کے وعدے دوبارہ دہرائے اور انہیں خاموش رہنے کا کہا۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے رپورٹ میں شامل الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیموکریٹس انہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں

