ذاتی نوعیت کی ایم آر این اے ویکسین امیونو تھراپی کے ساتھ مؤثر ثابت، تیسرے مرحلے کے تجربے میں 1,100 سے زائد مریض شامل
سڈنی (الفجر آن لائن): جلد کے کینسر کی خطرناک قسم میلانوما کے علاج کے لیے تیار کردہ ذاتی نوعیت کی ایم آر این اے ویکسین کے تیسرے مرحلے کے طبی تجربے میں حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔ تحقیق کے مطابق معیاری امیونو تھراپی کے ساتھ ویکسین استعمال کرنے سے کینسر کی واپسی یا موت کا خطرہ 42 فیصد تک کم ہوا۔
ویب سائٹ سائنس الرٹ کے مطابق تحقیق کے نتائج میلانوما انسٹی ٹیوٹ آسٹریلیا کی آنکولوجسٹ ڈاکٹر جارجینا لونگ نے یورپی سوسائٹی فار میڈیکل آنکولوجی کی 2026 کی کانفرنس میں پیش کیے۔
موڈرنا اور مرک کی تیار کردہ اس ویکسین کو ہر مریض کے ٹیومر کی جینیاتی خصوصیات کے مطابق بنایا جاتا ہے، تاکہ مدافعتی نظام کینسر کے خلیوں کو زیادہ مؤثر انداز میں پہچان کر ان پر حملہ کرسکے۔ اسے امیونو تھراپی کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے، جو کینسر کی جانب سے مدافعتی نظام کو دھوکا دینے کے عمل کو روکنے میں مدد دیتی ہے۔
INTerpath-001 نامی تجربے میں دنیا بھر کے 157 مراکز سے 1,100 سے زائد مریض شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق بعض مخصوص مریضوں میں کینسر کی واپسی یا موت کے خطرے میں کمی 58 فیصد تک بھی دیکھی گئی۔
ماہرین کے مطابق یہ نتائج کینسر کے ذاتی نوعیت کے علاج میں اہم پیش رفت ہیں، تاہم ویکسین ابھی آسٹریلیا اور امریکا میں عام مریضوں کے لیے دستیاب نہیں اور اس کی منظوری کا عمل جاری ہے۔ دیگر اقسام کے کینسر میں اس کی افادیت جانچنے کے لیے مزید تحقیق بھی درکار ہے۔

