کوئٹہ (الفجرآن لائن) علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولان عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، حاجی بشیر احمد کاکڑ، سیکرٹری مالیات حاجی صالح محمد، مفتی رضا خان، حاجی ظفر اللہ کاکڑ، میر سرفراز شاہوانی، میر حشمت لہڑی، سیٹھ اجمل بازئی، سالار مولوی علی جان، مولانا سید سعد اللہ آغا اور مولوی نقیب اللہ ملاخیل نے کہا ہے
کہ بلوچستان میں غربت بے روزگاری اور معاشی بدحالی تشویشناک حدوں کو چھو رہی ہے غربت کی شرح سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔ مہنگائی بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث ہزاروں خاندان دو وقت کی روٹی کے حصول کے لیے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو آنے والے بجٹ سے کسی ریلیف کی توقع نہیں ماضی کی طرح موجودہ بجٹ بھی عوامی فلاح و بہبود کے بجائے شاہی اخراجات اور نمائشی منصوبوں تک محدود رہے گا۔
رہنماو نے کہا کہ صوبے میں امن و امان اور گورننس کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے جس کے باعث عوام تاجر برادری اور کاروباری طبقہ خود کو غیر محفوظ تصور کر رہا ہے۔ بدامنی، بھتہ خوری، جرائم اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار صوبے سے نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں انہوں نے کہا کہ حالات روز بروز حکومت کے کنٹرول سے باہر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں حکومت عوام کو درپیش معاشی اور امن و امان کے مسائل کے حل کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔
