بھرتی، تربیت اور حملوں میں کردار سے متعلق اعترافی بیان؛ مالی لالچ اور جھوٹے وعدوں کے ذریعے تنظیم میں شامل کیا گیا، دہشت گرد حبیب اللہ تفتیشی اداروں کی مزید تحقیقات جاری
اسلام آباد (الفجرآن لائن) سیکیورٹی فورسز کے ایک آپریشن میں گرفتار کیے گئے دہشت گرد حبیب اللہ نے دورانِ تفتیش دہشت گرد نیٹ ورک، بھرتی کے طریقہ کار، تربیتی مراکز اور مختلف حملوں میں اپنے کردار سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشتگرد نے بتایا کہ اسے مالی لالچ اور جھوٹے وعدوں کے ذریعے تنظیم میں شامل کیا گیا، جہاں اسے اسلحہ، بارودی مواد اور دہشت گرد کارروائیوں کی تربیت دی گئی۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم حبیب اللہ کا تعلق ضلع خضدار کی تحصیل اورناچ کے علاقے سیراندوہ سے ہے۔ اس نے بتایا کہ ابتدا میں اسے چنل دشت منتقل کیا گیا، جہاں ذہن سازی کی گئی، جبکہ بعد ازاں سرگڑھ کیمپ میں اسلحہ چلانے، بارودی مواد استعمال کرنے، گھات لگا کر حملہ کرنے اور کارروائی کے بعد شناخت چھپانے اور فرار ہونے کی تربیت دی گئی۔
ملزم نے دورانِ تفتیش مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ وہ اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد، خوراک اور ادویات مختلف دہشت گرد گروہوں تک پہنچاتا رہا، جبکہ سنارو کیمپ، خضدار، نال اور بیلہ سمیت متعدد حملوں میں بھی شریک رہا۔ اس کا کہنا تھا کہ ہر کارروائی سے قبل اسلحہ، ہدایات اور رابطے تنظیم کی جانب سے فراہم کیے جاتے تھے اور ہر حملے کے بعد معاوضہ بھی دیا جاتا تھا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار دہشتگرد نے بتایاکہ خضدار اور بیلہ میں حملوں کے بعد اسے 25 ہزار روپے بطور معاوضہ دیے گئے، جبکہ خضدار پولیس چیک پوسٹ پر حملے کے دوران دہشت گردوں کی فائرنگ سے دو شہری جاں بحق ہوئے تھے۔ خارجی نے یہ بھی بتایا کہ اس کے بیشتر ساتھی بے روزگاری اور مالی مشکلات کے باعث تنظیم میں شامل ہوئے، جبکہ تنظیم چھوڑنے کی کوشش کرنے والوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی تھیں۔ اس کے مطابق تربیتی کیمپوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان تھا اور خوراک کا انتظام مبینہ طور پر قریبی دیہات میں لوٹ مار کے ذریعے کیا جاتا تھا۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم کے اعترافی بیان کی روشنی میں مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے نیٹ ورک کے دیگر مبینہ سہولت کاروں اور ساتھیوں کے بارے میں بھی معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔

