کابل (الفجر آن لائن) افغانستان کے صوبہ بدخشان میں طالبان مخالف مسلح کارروائیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، جہاں مختلف اضلاع میں جھڑپوں کے بعد سیکیورٹی صورتحال کشیدہ بتائی جا رہی ہے۔یفتل اور زیباک اضلاع میں ہونے والے حالیہ واقعات نے طالبان کی جانب سے ملک پر مکمل کنٹرول کے دعوؤں پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
طالبان مخالف مسلح گروپ افغانستان فریڈم فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے کابل سے بدخشان جانے والے طالبان کے ایک فوجی قافلے کو راکٹ حملے کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 7 طالبان اہلکار ہلاک جبکہ 6 سے زائد زخمی ہوئے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری تنظیم کے بیان کے مطابق، اس کے جنگجوؤں نے کابل سے شمالی سالنگ تک طالبان کے فوجی قافلے کی نقل و حرکت پر نظر رکھی، بیان میں کہا گیا کہ یہ قافلہ بدخشان
میں تعیناتی کے لیے اضافی نفری اور فوجی سازوسامان منتقل کر رہا تھا افغانستان فریڈم فرنٹ نے مزید دعویٰ کیا کہ ہفتے کے روز ضلع زیباک میں اس کے جنگجوؤں نے طالبان کے 2 فوجی ڈرون مار گرائے۔
جبکہ جمعہ کے روز اسی ضلع میں طالبان کے ہیلی کاپٹروں کو لینڈنگ کیے بغیر واپس جانے پر مجبور کر دیا گیا۔معروف افغان صحافی بلال سروری نے کہا ہے کہ فریڈم فرنٹ کی مسلسل کارروائیاں اور ڈرون حملے تنظیم کی بڑھتی ہوئی جنگی صلاحیت۔
مؤثر منصوبہ بندی، انٹیلی جنس، لاجسٹکس اور تیاری کی عکاسی کرتے ہیں۔دوسری جانب سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت ایک جائز حکومت نہیں، اور اس کے خلاف سیاسی و عسکری مزاحمت مزید منظم ہوگی، جو بالآخر طالبان کے اقتدار کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔

