یوکرین ( الفجرآن لائن) یوکرین نے روس کے دارالحکومت ماسکو پر جنگ کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈرون حملہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ماسکو کی ایک بڑی آئل ریفائنری شدید متاثر ہوئی ہے۔ جبکہ شہر کے مصروف ترین ہوائی اڈوں پر تجارتی پروازوں کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ روسی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایک ہفتے کے دوران ماسکو کی اس اہم ریفائنری پر یہ دوسرا بڑا حملہ ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس حملے کو رواں ہفتے کیف کی ایک تاریخی خانقاہ پر ہونے والی روسی بمباری کا منہ توڑ جواب قرار دیا ہے۔ صحافیوں کو بھیجے گئے ایک خصوصی صوتی پیغام میں انہوں نے روسی قیادت کو سخت ترین الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا، "ہم یہ جنگ نہیں چاہتے تھے اور نہ ہی ہم نے کبھی اس کی شروعات کی، لیکن اگر یوکرین جلتا ہے تو اب آپ کا ماسکو بھی جل کر رہے گا۔”
صدر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ روسی عوام کو اب یہ احساس کرنا ہوگا کہ پوتن کی ذاتی جنگ کا خمیازہ اور قیمت عام روسی شہریوں کو بھگتنی پڑ رہی ہے۔
واضح رہے کہ یوکرین کا یہ جارحانہ حملہ صدر زیلنسکی کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ ایک اہم ترین ٹیلیفونک رابطے کے فوری بعد سامنے آیا ہے۔ یوکرینی صدر کے مطابق، فرانس میں جاری جی 7 سربراہی اجلاس کے دوران امریکہ سمیت عالمی رہنماؤں نے یوکرین کی فوجی اور سفارتی حمایت کو مزید بڑھانے کے کلیدی وعدے کیے ہیں، جو اس جنگ میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
