اسلام آباد(الفجر آن لائن،ایم ایس خان)وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان نے تیسری عالمی جنگ سے دنیا کو بچا لیاہے،جولائی کے پہلے ہفتے میں ریلوے کے زریعے عوام کو خوشخبری دوں گا،ریلوے کا بہت بڑا انفراسٹرکچر موجود ہے، ریلوے کو دوبارہ اُٹھائیں گے،پنڈی ٹائیگرز میں راولپنڈی کے دس ہزار سے زائد کھلاڑیوں نے رجسٹریشن کروائی ہے،19 جون کو پنڈی ٹائیگرز کے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں ٹرائلز ہوں گے۔وہ لاہورقلندرز چیف ایگزیکٹو عاطف رانا، سابق کپتان یونس خان کے ہمراہ یہاں پنڈی ٹائیگرز سے متعلق پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
حنیف عباسی نے کہا کہ پاکستان نے تیسری عالمی جنگ سے دنیا کو بچا لیاہے۔یونس خان میریپسندیدہ بیٹرتھے، پاکستان کرکٹ میں ہیرو کادرجہ رکھتے ہیں۔لاہورقلندرز نے نوجوانوں کو لاکھوں کی تعداد میں گھروں سے نکال کر میدانوں میں لائے۔پنڈی ٹائیگرز کا آئیڈیا بہت پراناہے،ماضی میں راولپنڈی میں یونین کونسل کی سطح پر میرٹ پر ٹیمیں بنائی ہوئی ہیں۔
آسٹریلیا میں دی گئی کرکٹ سہولیات کو راولپنڈی میں متعارف کروایا،کھلاڑی آیا،لیکن کھلاڑیوں کے راستے بند کردیے گئے،پنڈی ٹائیگرز میں راولپنڈی کے دس ہزار سے زائد کھلاڑیوں نے رجسٹریشن کروائی ہے،19 جون کو پنڈی ٹائیگرز کے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں ٹرائلز ہوں گے، ٹرائلز کا آغاز صبح نو سے شام چھ بجے تک ہوگا،پنڈی ٹائیگرز کے ٹرائلز میرٹ پر ہوں گے، لاہورقلندرز کو ٹرائلز کا طریقہ کار آتا ہے۔ حنیف عباسی نے کہا کہ جولائی کے پہلے ہفتے میں ریلوے کے زریعے عوام کو خوشخبری دوں گا۔
یونس خان نے بتایا میں ریلویز کی طرف سے کرکٹ کھیل چکاہے،پنڈی ٹائیگرز کیلئے بیس کھلاڑیوں کی سیلیکشن ہوگی، لاہورقلندرز ہائی پرفارمینس سینٹر میں ٹریننگ دیں گی۔ریلوے کے ڈیپارٹمنٹ نے مختلف کرکٹ کے سابق ٹیسٹ کرکٹرز کھیل چکے ہیں،ریلوے کا بہت بڑا انفراسٹرکچر موجود ہے، ریلوے کو دوبارہ اُٹھائیں گے۔کرکٹ ہاکی ویٹ لفٹنگ ایتھلیٹکس کے کھیلوں میں ریلویز بحالی کاکام کریگا۔پی ایس ایل میں فرنچائز اپنے شہر کے نام پر کتنے اس شہر کے کھلاڑیوں کو شامل کرتے ہیں،پندی ٹائیگرز میں راولپنڈی کے کرکٹرز ہوں گے تاکہ سب کو پتہ چلے کہ راولپنڈی کی ٹیم ہے۔ڈیپارٹمنٹ کی ٹیموں کو کھیلوں میں بحال کرنے پر مجبور کرنا چاہیے
۔پی ایس ایل کی فرنچائزز کو انکے شہروں کا ریجن دیدینا چاہیے۔ریلوے کی بگڑی ہوئی حالت کو بہتر کیاہے، اب ریلوے کی کھیلوں کو بہتر کرنا ہے۔بھارت، ازبکستان، ایران، برطانیہ سے بہتر پاکستان کی ریلوے کو بنانا چاہتے ہیں۔19ویں صدی کے ٹریک پاکستان میں ہیں، گزشتہ دس سالوں میں مینٹیننس کاکام نہیں ہواتھا۔یونس خان نے کہا کہ ریلویز کیلئے ڈیپارٹمنٹ کرکٹ کھیل چکاہوں،اگر مجھے ڈیپارٹمنٹ کی نوکری نہ ملتی تو شائد میں دس ہزار پاکستان کیلیے رنز اسکور نہ کرتا،لاہورقلندرز کافین ہوں، گراس روٹ سطح پر کھلاڑیوں کو منتخب کرتے ہیں۔
