قومی اسمبلی(الفجرآن لائن)اجلاس سے خطاب میں بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ آزاد کشمیر میں مسائل پیدا کیے جارہے ہیں ، اشیاء خورونوش کی قلت ہورہی ہے، جو کشمیری احتجاج کررہے ہیں اس صورتحال میں جو کچھ ہورہاہے وہ پاکستان کی ساکھ اورکشمیرکازکو بھی نقصان پہنچارہاہے۔
بلاول بھٹو نے مطالبہ کیا قانون ہاتھ میں لینے والوں کو پولیس کے حوالے کیا جائے، پولیس ایکشن لے، ساتھ ہی پیغام دیا اس سے پہلےکہ ہمیں زبردستی کرنا پڑے قانون توڑنے والوں سے مظاہرین خود کو الگ کریں، احتجاج کرنے والے اپنی صفوں سے انتہا پسندوں کو الگ کریں۔چیئرمین پیپلز پارٹی نےکہا مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ زیادہ متنازع ہو گیا ہے، یہ ایسا معاملہ نہیں جو حل نہ ہو سکے، مہاجرین کی نشستیں بندوق کے زور پر ختم نہیں ہو سکتیں۔
ہمارا اصولی موقف ہے کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیری ہی کریں گے، مہاجرین کی نشتستوں کا معاملہ دھمکیوں اور دھرنےکے بجائے بات چیت اور قانون سازی سے حل ہوگا۔ اس معاملے پر جتنا ایکشن کمیٹی کا حق ہے اتنا ہی مسلم کانفرنس اور دوسری جماعتوں کا حق ہے۔
بلاول بھٹو بولے عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدہ اسی فیصد مکمل تھا، ہم مذاکرات سے انکاری نہیں ہیں، پُرامن طریقے سے سیاسی انداز میں مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے، تمام مسائل کا حل پاکستان کے دائرے میں رکھیں۔
بلاول بھٹو نے کہا مہاجرین کو ووٹ کا حق بھی دیا جانا چاہیے، اس پر کوئی رکاوٹ نہیں، اس طریقے سے دھمکیاں دے کر معاملہ مزید خراب کیا جا رہا ہے، میں زور دیتا ہوں کہ ایکشن کمیٹی سیاسی انداز میں معاملہ حل کرنے کی طرف جائے۔
