موجودہ سیاسی کشیدگی عوام میں بے چینی میں اضافے کا باعث بن رہی ہے،کشمیری قیادت
کالعدم ایکشن کمیٹی عوامی حقوق کی آڑ میں کسی اور ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، مشترکہ پریس کانفرنس
اسلام آ باد(الفجرآن لائن) آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی عوامی حقوق کی آڑ میں کسی اور ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، لیکن آزاد کشمیر اور پاکستان کے عوام کے درمیان محبت کے رشتے کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ پاک فوج میں بغاوت کی بات کرنے والوں کو سرعام پھانسی دی جائے۔
سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق، پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر اور دیگر نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آزاد کشمیر کی موجودہ صورت حال پر بات چیت کی۔سابق وزیراعظم سردار عتیق نے کہاکہ آزاد کشمیر کے عوام محب وطن ہیں، لیکن کچھ لوگوں کی جانب سے انہیں ریاست پاکستان کے خلاف اکسایا جا رہا ہے جس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی، پاک فوج میں بغاوت کا مطالبہ کرنے والوں کو سرعام پھانسی دی جائے۔سردار عتیق احمد نے کہاکہ موجودہ سیاسی کشیدگی عوام میں بے چینی میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ حکومتِ پاکستان نے ہر معاملے میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، لیکن جرائم کا ارتکاب کرنے والے قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔سردار عتیق احمد نے کہاکہ پاک فوج اپنے مضبوط نظم و ضبط کی بدولت ایک منظم ادارہ ہے اور کشمیری عوام نے انتشار پھیلانے والے گروہ کو مسترد کر دیا ہے۔اس موقع پر صدر مسلم لیگ ن شاہ غلام قادر نے کہاکہ حکومتِ پاکستان نے آزاد کشمیر کے عوام کو پاکستان کے مقابلے میں سستا آٹا اور بجلی فراہم کی۔انہوں نے کہاکہ کالعدم ایکشن کمیٹی انتشار پھیلانے کی کوشش کررہی ہے، تاہم عوام کو ہر مسئلے پر اپنی رائے کے اظہار کا مکمل حق حاصل ہے۔
شاہ غلام قادر نے مزید کہا کہ انتشار پسند عناصر نے اسپتالوں تک کو نشانہ بنایا، جبکہ پاک فوج میں خدمات انجام دینے والے کشمیریوں کو بغاوت پر اکسانے کی بھی کوشش کی گئی، جو انتہائی قابلِ مذمت عمل ہے۔اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی خاتون رہنما نبیلہ ایوب نے کہاکہ پاک فوج کا جوان ہمارے ملک کی دفاعی سرحدوں کا محافظ ہے، بغاوت کا مطالبہ کرنے والوں کو سمجھ جانا چاہیے کہ ریاست کسی صورت رعایت نہیں کریگی۔
انہوں نے کہاکہ چند گنے چنے لوگ پاکستان مخالف ایجنڈے پر کام کررہے ہیں، اس سے کشمیری عوام کا کوئی تعلق نہیں، انہیں خود کو الگ کرنا چاہیے۔پریس کانفرنس کے دوران کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے سیکیورٹی اہلکاروں پر تشدد اور ریاست مخالف بیانیے سے متعلق ایک ویڈیو بھی چلائی گئی جس میں تمام ثبوت پیش کیے گئے کہ کس طرح پاکستان کے خلاف زہر اگلا جا رہا ہے
