کوئٹہ( الفجرآن لائن) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اتوار کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری کے بعد اپنے خطاب کا آغاز امید، عزم اور ترقی کے پیغام سے کرتے ہوئے ایک پُراثر شعر سے کیا جسے ایوان میں موجود اراکین اسمبلی نے بھرپور انداز میں سراہا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اپنی تقریر کے آغاز میں کہا:
"جب آنکھوں میں ارمان لیا
منزل کو اپنا مان لیا
پھر مشکل اور آسان ہے کیا؟
جب ٹھان لیا بس ٹھان لیا”
ان اشعار کے ذریعے وزیر اعلیٰ نے اپنی حکومت کے عزم، عوامی خدمت کے جذبے اور بلوچستان کی ترقی کے لیے اختیار کیے گئے راستے کا اظہار کیا۔ ان کے ابتدائی کلمات پر حکومتی و اپوزیشن اراکین سمیت پورے ایوان نے ڈیسک بجا کر بھرپور تحسین پیش کی وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب میں صوبے کی ترقی، تعلیم، صحت، گڈ گورننس، میرٹ اور امن و امان کے حوالے سے حکومتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کو ترقی، خوشحالی اور پائیدار امن کی راہ پر گامزن رکھنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے میر سرفراز بگٹی نے اپنی تقریر کا اختتام "بلوچستان کا عہد” کے عنوان سے ایک ولولہ انگیز اس آزاد نظم کے ذریعے کیا،
سنو اے خاکِ بلوچستان! گواہ رہنا آج کی رات
ہم اپنے خون سے لکھتے ہیں امن کی ایک نئی بات
جنہوں نے ماؤں سے بیٹے چھینے، جنہوں نے گھر ویران کیے
جنہوں نے نفرت کے موسم بوئے، جنہوں نے خواب پریشان کیے
ہم ان کو یہ پیغام دیتے ہیں، سن لیں وہ پہاڑوں کے پار
نہ یہ دھرتی جھکنے والی ہے، نہ یہ پرچم ہوگا شرمسار
تم خوف کے سوداگر ٹھہرے، ہم امید کے رکھوالے ہیں
تم نفرت کے اندھیرے ہو، ہم امن کے اجالے ہیں
تم جتنی آگ لگاؤ گے، ہم اتنے گلزار اگائیں گے
تم جتنے اسکول جلاؤ گے، ہم اتنے تعلیم گھر بنائیں گے
تم گولی سے جو جیتو گے، وہ جیت ہمیشہ ہارے گی
کیونکہ قوموں کی تقدیر آخر قلم کی نوک سنوارے گی
یہ دھرتی نوابوں کی بھی ہے، مزدوروں اور کسانوں کی بھی
یہ بلوچوں کی، پشتونوں کی، پنجابی کی ہر ماں کے ارمانوں کی بھی
ہم عہد کرتے ہیں اس ایوان میں،
ہم شہیدوں کے مقدس خون کی قسم کھاتے ہیں
ہم بیواؤں کی آہوں اور سسکیوں کی قسم کھاتے ہیں
ہم ماؤں کے مقدس آنسوؤں کی قسم کھاتے ہیں
ہم بوڑھے باپ کی بے بسی اور خاموش دکھوں کی قسم کھاتے ہیں
دہشت گردوں کے شکست تک سکون نہ کرنے کی قسم کھاتے ہیں
اور جب تاریخ لکھی جائے گی آنے والی نسلوں کے لیے
تو لکھا جائے گا:
کہ ایک قوم ڈٹی رہی تھی اندھیروں کے مقابلے میں
کہ ایک قوم کھڑی رہی تھی دہشت کے زلزلوں کے مقابلے میں
اور آخرکار جیت امن کی ہوئی تھی
اور آخر کار جیت پاکستان کی ہوئی تھی۔
